آسٹریلیا نے نیتن یاہو کے شدید رد عمل کے باوجود فلسطین کو تسلیم کر لیا

اینتھونی البانیز: مستقل قیامِ امن کے لیے طویل المدت حل کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے، اسرائیلی تشدد پر پابندی لگائی جائے اور غزہ میں انسانی امداد تک رسائی کی اجازت دی جائے۔

البانیسی نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے تشدد کا خاتمہ اور انسانی امداد تک رسائی کی اپیل کی ہے۔ / Reuters Archive

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اپنی حکومت کے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے، جسے نسل کش بنیامین نیتن یاہو نے "دہشت گردی کے لیے ایک مضحکہ خیز انعام" قرار دیا۔

البانیز نے نیویارک میں اقوام متحدہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "آسٹریلیا نے فلسطین کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ایک ایسا موقف اپنایا ہے جو آسٹریلیا میں طویل عرصے سے دو طرفہ پوزیشن کے مطابق ہے۔ ہم دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں۔"

البانیز نے اس بات پر زور دیا کہ آسٹریلیا نے 1948 میں اقوام متحدہ کے ذریعے اسرائیل کی ریاست کے قیام میں "ایک مثبت کردار" ادا کیا تھا اور کہا کہ "دو ریاستوں کا قیام ہی اس وقت کا تصور تھا۔"

وزیر اعظم نے فوری جنگ بندی، قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی امداد کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا تاکہ "وہاں پیدا ہونے والے انسانی بحران" کو حل کیا جا سکے۔

طویل مدتی حل

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے "طویل مدتی حل کی طرف پیش رفت ضروری ہے" تاکہ "اسرائیلی اور فلسطینی امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ رہ سکیں۔"

اتوار کے روز البانیز نے اعلان کیا کہ "آج، اتوار 21 ستمبر 2025 سے، آسٹریلیا  دولتِ مشترکیہ کے ہمراہ باضابطہ طور پر آزاد اور خودمختار ریاست فلسطین کو تسلیم کرتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ یہ اقدام "فلسطینی عوام کی جائز اور طویل عرصے سے قائم خواہشات کو تسلیم کرتا ہے کہ ان کی اپنی ایک ریاست ہو" اور یہ کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک کے ساتھ مل کر "دو ریاستی حل کے لیے نئی تحریک پیدا کرنے کی ایک مربوط بین الاقوامی کوشش" کا حصہ ہے۔

اسی دن، نیتن یاہو نے آسٹریلیا، برطانیہ اور دیگر ممالک کی جانب سے کیے گئے اس اعلان پر تنقید کرتے ہوئے اسے "دہشت گردی کے لیے ایک مضحکہ خیز انعام" قرار دیا۔