ہسپانوی وزارت کے ذرائع نے کہا ہے کہ عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ہنٹا وائرس سے متاثرہ مسافروں کے انخلاءکے عمل میں تعاون کے لیے ہفتے کو ہسپانوی جزیرے ٹینیریفے آئیں گے۔
ذرائع نے کہا ہے کہ تیدروس ادہانوم گیبریسوس اسپین کے وزیرِ صحت اور وزیرِ داخلہ کےہمراہ وہاں ایک کمانڈ پوسٹ کا دورہ کریں گے تاکہ "انتظامیہ، صحت کے کنٹرول اور طے شدہ نگرانی اور ردِ عمل کے پروٹوکول کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔"
ایم وی ہونڈیئس نامی بحری جہاز کے تین مسافر ہنٹا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر افراد اس نایاب مرض سے دو چار ہیں ، جو عموماً چوہوں سے پھیلتا ہے۔
جن افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے ان میں وہی ہنٹا وائرس تصدیق ہوا ہے جو انسان سے انسان میں منتقل ہو سکتا ہے، یعنی اینڈیز وائرس، جس نے بین الاقوامی تشویش کو ہوا دی ہے۔
ہالینڈ کے پرچم بردار اس بحری جہاز میں تقریباً 150 لوگ سوار ہیں اور توقع ہے کہ یہ اتوار کو ہسپانوی جزیرہ ٹینیریفے پہنچے گا۔ اس کے بعد خصوصی پروازیں مسافروں کو ان کے آبائی ممالک تک پہنچائیں گی۔
جمعہ کو عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ ہنٹا وائرس کی یہ وبا عوام الناس کے لیے معمولی خطرہ ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کے ترجمان کرسچن لنڈمائر نے صحافیوں سے کہا کہ"یہ ایک خطرناک وائرس ہے، مگر صرف اس شخص کے لیے جو واقعی متاثر ہے، اور عام آبادی کے لیے خطرہ بالکل کم ہی رہتا ہے۔"
ایم وی ہونڈیئس سے جو تصویر اب سامنے آ رہی ہے اس میں یہ بات بھی نظر آ رہی ہے کہ " جو افراد ایک ہی کیبن شیئر کر رہے تھے ان میں سے ایک بیمار پڑ ا ہے۔"
انہوں نے بتایا کہ "یہ وائرس اتنا متعدی نہیں کہ آسانی سے ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو جائے"۔
جمعہ کو عالمی ادارۂ صحت نے کہا کہ اب تک آٹھ مشتبہ میں سے چھ کیسوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ کشتی پر مزید کوئی مشتبہ کیس نہیں ہے۔
KLM کی فلائٹ اٹینڈنٹ کا ٹیسٹ منفی
ہالینڈ کی ایئر لائن KLM کی ایک فلائٹ اٹینڈنٹ جس کا اس سفر کے دوران کشتی کے ایک متاثرہ مسافر سے رابطہ ہوا اور بعد ازاں معمولی علامات دکھائی دی تھیں، کا ہنٹا وائرس ٹیسٹ منفی آیا ہے۔
وہ مسافر، جو اس وبا میں پہلی ہلاک ہونے والے شخص کی بیوی تھی، 25 اپریل کو جوہانسبرگ سے نیدرلینڈز جانے والی ایک پرواز میں مختصر طور پر سوار ہوئی تھی، مگر روانگی سے پہلے ہی اسے اتار دیا گیا تھا۔
اس کا جوہانسبرگ کے ایک ہسپتال میں اگلے دن انتقال ہو گیا تھا۔
اس پرواز میں موجود ایک خاتون کے ہنٹا وائرس کے لیے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں کیونکہ مشرقی اسپین میں گھر پہنچنے کے بعد اس میںعلامات ظاہر ہوئی ہیں، اسپین کے سیکرٹری برائے صحت خاویئر پیڈیلا نے کہا۔ وہ ہسپتال میں قرنطینہ میں ہیں۔
"یہ ایک کافی غیر متوقع کیس ہے" انہوں نے صحافیوں سے کہا: وہ شخص "جس کے پیچھے دو قطاریں تھیں وہی ہنٹا وائرس سے مرنے والے شخص کے قریب بیٹھا تھا۔"
ہسپانوی وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے کہا کہ اس پرواز میں موجود ایک جنوبی افریقی خاتون " بارسیلونا میں ایک ہفتہ قیام کے بعد اپنے ملک واپس لوٹنے پر تا حال جنوبی افریقہ میں علامتوں سے پاک ہیں۔"
سنگاپور کے حکام نے جمعہ کو کہا کہ کشتی پر سوار دو سنگاپوری رہائشیوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں لیکن وہ قرنطینہ میں رہیں گے۔
تقریباً صفر امکان
ایم وی ہونڈیئس یکم اپریل کو ارجنٹائن کے شہر Ushuaia سے اٹلانٹک پار کر کے کیپ ورڈے جانے کے لیے روانہ ہوا تھا۔
کیپ ورڈے سے نیدرلینڈز کو جانے کے لیے تین مشتبہ کیسوں میں سے دو عملے کے ارکان بھی شامل تھے، جن کے بعد ان کا ٹیسٹ مثبت آیا اور انہیں کیپ ورڈے سے نیدرلینڈز منتقل کیا گیا۔
جمعہ کو جرمن حکام نے کہا کہ تیسرے شخص کا ٹیسٹ منفی آیا ہے، مگر اسے نگرانی میں رکھا جائے گا۔
صوبائی صحت کے اہلکار جوان پیٹرینا نے کہا کہ وائرس کے انکیوبیشن پیریڈ اور دیگر عوامل کی روشنی میں وبا سے منسلک ڈچ شخص کا Ushuaia میں بیماری کا شکار ہونے کا "تقریباً صفر امکان" ہے۔
یوٹیوبر کیسیم ابن حدّوتہ، جو ہونڈیئس پر سفر کر رہے ہیں، نے کہا کہ مسافروں کو بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر بحری جہاز پر آ گئے ہیں جس سے اطمینان حاصل ہوا ہے۔
"آخر کار ہم کیپ ورڈے سے روانہ ہو گئے جو کشتی پر موجود سب کے لیے ایک تسکین کی بات تھی، خاص طور پر اس بات سے کہ ہمارے بیمار ساتھیوں کو آخر کار وہ طبی نگہداشت مل رہی ہے جس کی انہیں ضرورت تھی۔
انہوں نے کہا کہ سب کا حوصلہ بلند ہےا: "لوگ مسکرا رہے ہیں اور صورتحال کو پرسکون انداز میں لے رہے ہیں۔"
واپسی کے منصوبے
جمعہ کو امریکہ نے کہا کہ وہ بحری جہاز پر موجود امریکی شہریوں کے لیے ایک انخلاء کی پرواز کا انتظام کر رہا ہے، جنہیں پھر نیبراسکا کے ایک قرنطینہ مرکز میں لے جایا جائے گا۔
ہسپانوی حکام نے کہا ہے کہ جہاز کو ٹینیریفے کے ساحل سے دور لنگر انداز رکھا جائے گا اور اسے بندرگاہ پر لنگرانداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مسافروں کو بس کے ذریعے ایئرپورٹ لے جانے کے بجائے ایک چھوٹی کشتی کے ذریعے ساحل تک منتقل کیا جائے گا۔
کناریائی صوبائی حکومت نے کہا کہ موسمی حالات کے باعث یہ انخلاء اتوار اور پیر کے درمیان ہونا چاہیے۔
جمعہ کو ٹینیریفے کے عوام نے جہاز کے آنے کے خلاف احتجاج بھی کیا۔
یہ کروز جنوبی بحرِ اطلس میں کئی دور دراز برطانوی جزائر پر رکا تھا۔












