بغداد میں حملوں کا خطرہ ہے، امریکی شہری عراق سے نکل جائیں

ایران کے حامی عراقی ملیشیا مرکزی بغداد میں امریکی شہریوں اور مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں: امریکہ سفارت خانہ

By
امریکی پرچم 17 مارچ 2026 کو بغداد، عراق میں امریکی سفارت خانے پر لہرایا جا رہا ہے۔ / Reuters Archive

عراق کے دارالحکومت  بغداد میں امریکی سفارت خانے نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں امریکی شہریوں سے فوری طور پر عراق چھوڑنے کی اپیل کی اور  خبردار کیا  ہےکہ آئندہ  24 تا 48 گھنٹوں کے دوران  بغدادمیں حملے ہو سکتے ہیں۔

امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر شائع کی گئی  وارننگ میں سفارت خانے نے شبہ ظاہر کیا ہےکہ ایران کے حامی عراقی ملیشیا مرکزی بغداد میں امریکی شہریوں اور مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا  ہےکہ ممکنہ اہداف میں امریکی شہری، کمپنیاں، یونیورسٹیاں، سفارتی مراکز، توانائی کے بنیادی ڈھانچے، ہوٹل اور ہوائی اڈے نیز امریکہ سے منسلک  خیال کئے جانے والے  عراقی ادارے اور شہری مقامات شامل ہو سکتے ہیں ۔

سفارت خانے نے ، ماضی میں ملیشیاؤں کی طرف سے امریکیوں کے اغوا کا حوالہ دیا اور شہریوں سے بلا تاخیر ملک چھوڑ دینے کی اپیل کی ہے۔

وارننگ میں کہا گیا ہے کہ "کسی بھی وجہ سے عراق کا سفر نہ کریں اور اگر آپ وہاں موجود ہیں تو فوراً نکل جائیں"۔

بیان میں  خبردار کیا گیا ہے  کہ عراقی حکومت اپنی سرزمین کے اندر  یا اپنی زمین کی وجہ  سے ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔بہت ممکن ہے کہ  بعض ملیشیا اراکین 'ریاستی اداروں سے روابط رکھتے ہوں یا سرکاری شناختی کارڈ کے مالک  ہوں گے'۔

واضح رہے کہ امریکہ  بعض عراقی عسکری گروپوں کو ایران کے ساتھ روابط اور خطے میں امریکی اڈوں پر حملوں کا قصوروار ٹھہراتا ہے۔