ہم اس آفت کے خلاف ہیں: سانچز
ایران پر امریکہ۔اسرائیل حملے طویل جنگ میں تبدیل ہونے اور نتیجتاً عالمی سطح پر مصارفِ حیات میں اضافہ کرنے کا خطرہ لئے ہوئے ہیں: پیدرو سانچیز
اسپین کے وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز نے بین الاقوامی قانون کے احترام کی اپیل کی اور کہا ہے کہ ایران پر امریکہ۔اسرائیل حملے طویل جنگ میں تبدیل ہونے اور نتیجتاً عالمی سطح پر مصارفِ حیات میں اضافہ کرنے کا خطرہ لئے ہوئے ہیں۔
پیدرو سانچیز نے آج بروز بدھ ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں کہا ہے کہ "ہم اس آفت کے خلاف ہیں۔ حکومتیں لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے لیے ہونی چاہئیں نہ کہ انہیں مزید خراب کرنے کے لیے۔ کچھ لوگوں کا جنگ کی پیدا کردہ غیر یقینی کا فائدہ اٹھا کر اپنی ناکامیوں کو چھُپانے اور ہمیشہ کی طرح چند لوگوں کی جیبیں بھرنے کی کوشش کرنا ناقابل قبول ہے۔
سانچیز نے تمام فریقین سے تشدد ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہاہے کہ "کسی کو معلوم نہیں کہ کیا ہوگا یا ان لوگوں کے مقاصد کیا ہیں جنہوں نے اسے شروع کیا ہے۔ لیکن ہمیں اس کے طویل جنگ میں بدل جانے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ہم ایرانی حکومت کو اور خاص طور پر اپنی عورتوں کو دبانے والی انتظامیہ کو پسند نہیں کرتے لیکن ہم پُرامن حل کا مطالبہ کرتے ہیں"۔
انہوں نے جنگ عظیم اوّل کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ جھڑپوں نے پہلے ہی گھروں اور اسکولوں میں سینکڑوں اموات کا سبب بننا شروع کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسٹاک مارکیٹوں اور توانائی کی قیمتوں میں بھی خلل پڑا ہے۔بڑی جنگیں اکثر ایک سلسلہ وار غلطیوں اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شروع ہوتی ہیں ۔ ہم لاکھوں لوگوں کی زندگیوں سے روسی رولیٹ نہیں کھیل سکتے۔
انہوں نے ایران پر حملوں کا موازنہ عراق کی جنگ سے بھی کیا کہ جس کے نتیجے میں دہشت گردی ، مہنگائی اور ہجرت میں اضافہ ہوا اور ایک کم محفوظ دنیا سامنے آئی۔
مغربی دنیا میں اسپین، اسرائیلی-امریکی حملوں کا ایک سخت ناقد بن کر ابھرا ہے اورسانچیز نے کہا ہے کہ اس معاملے میں اسپین اکیلا نہیں ہے۔ہم اپنی آئینی اقدار، یورپی یونین کے اصولوں، اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم امن کے ساتھ ہیں"۔
انہوں نے کہا ہے کہ " تشدد کو مسائل کا حل سمجھنا یا دوسروں کی اندھی تقلید کو قیادت سمجھنا حماقت ہو گا۔ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ جنگ کے بجائے امن اور خوشحالی چاہتے ہیں۔
سانچیز نے کہا ہےکہ اسپین اقتصادی اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ جنگ سے متاثر ہونے والے اسپینی شہریوں اور کاروباروں کی مدد کی جا سکے۔ میڈرڈ، خلیجی خطے میں پھنسے ہزاروں اسپینی باشندوں کو وطن واپس لانے کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔
واشنگٹن کی اسپین کو دھمکی
منگل کو امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپین کے، ملک میں موجودامریکی بیس کو ایران پر حملوں کے لئے استعمال کی اجازت دینے سے، انکار کرنے کے بعد اسپین کو ایک 'بُرا' اتحادی قرار دیا اور تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی تھی۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس میں جرمن چانسلر فریڈرِک مرز کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ 'ہم اسپین کے ساتھ تمام تجارت بند کر دیں گے ۔ میں کل بلکہ اچھا ہے کہ آج ہی اسپین سے متعلقہ ہر چیز اور تمام تجارت کو روک سکتا ہوں"۔
وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسینٹ نے اس بات کا اضافہ کیا ہے کہ "سپریم کورٹ نے آپ کی پابندی نافذ کرنے کی صلاحیت کو تسلیم کیا ہے"۔
بدھ کو جاری کردہ بیان میں سانچیز نے واشنگٹن کی ان دھمکیوں کا براہِ راست ذکرکئے بغیر کہا ہے کہ "ہم ، انتقامی کارروائی سے ڈرنے والے نہیں ہیں"۔
واضح رہے کہ اسپین حکومت نے منگل کی شب جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ تجارتی تعلقات میں کسی بھی قسم کی نظرِ ثانی کا بین الاقوامی قوانین اور موجودہ معاہدوں کے احترام کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔