ایران جنگ میں ترکیہ کیسے عقل کی صدا بنا ہوا ہے، ایک تجزیہ
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اسرائیلی فوج کی طرف سے سپریم لیڈر علی خامنہ کے قتل کے بعد تہران کے لیے اظہارِتعزیت کیا، لیکن انہوں نے خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا
مشرقِ وسطیٰ میں سابقہ تنازعات کی طرح موجودہ ایران کی جنگ نے عسکری، سفارتی اور اقتصادی شعبوں میں ترکی کی منفرد پوزیشن پر توجہ مرکوز کر دی ہے، جہاں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم کردار ادا کرنے کے لیے تیار کھڑا ہے۔
امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ میں کم از کم 19 فوجی اڈے موجود ہیں اور ان میں سے زیادہ تر توانائی سے مالا مال بحرین، کویت، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں واقع ہیں۔
علاقے میں امریکی فوجی موجودگی اور وہاں تعینات طاقتور دفاعی نظام کے باوجود، ان تمام ممالک نے، اردن اور عراق کے ساتھ ساتھ، ایرانی میزائل حملوں کا سامنا کیا ہے جب تہران نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
جب ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون خلیجی شہروں پر برس رہے ہیں تو ترکیہ، جو نیٹو کا رکن اور غیر مشرق وسطیٰ کی ایک طاقتور فوج رکھنے والا ملک ہے، ایسے خوفناک حملوں کا شکار نہیں ہوا سوائے ایک میزائل کے، جسے بحیرہ روم میں نیٹو کے دفاعی نظام نے ترک فضائی حدود میں داخلے سے پہلے روک دیا گیا تھا۔
اسی دوران بحران کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرنے والی ایک غیرجانبدار طاقت، ترکیہ نے اپنی حیثیت مزید مستحکم کی ہے ۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اسرائیلی فوج کی طرف سے سپریم لیڈر علی خامنہ کے قتل کے بعد تہران کے لیے اظہارِتعزیت کیا، لیکن انہوں نے خلیجی ممالک پر ایران کے حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا اور خبردار کیا کہ خطہ "آگ کے دائرے" میں سرک سکتا ہے۔
ترکیہ نے متحارب فریقین سے ممکنہ حد تک جلد تنازع ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملے کو بین الاقوامی قانون کی "واضح خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔
انقرہ، جس نے بطور غیرجانبدار ریاست یوکرین تنازع کے لیے طویل عرصے سے امن کی کوششیں کی ہیں، نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے تاکہ ان کی دشمنیاں ختم کی جا سکیں۔
عقل سلیم کی صدا
انقرہ کے ایران معاملات کے تحقیقاتی مرکز کے محقق اورال توعا کا کہنا ہے کہ ترکیہ نے جنگ ختم کرنے کے لیے موجودہ کوششوں کو جاری رکھے گا۔ اس مرحلے میں پہلا ہدف جنگ بندی ہے۔ حالات کے باوجود، ترکیہ ہمیشہ استحکام کے حق میں حکمتِ عملی اختیار کرے گا ۔
توعانے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا کہ انقرہ کے پاس مشرقی افریقہ سے لے کر یوکرین کی جنگ تک مخالف فریقوں کے درمیان ثالثی کا وسیع تجربہ اور صلاحیت موجود ہے، لیکن اس جنگ کی موجودہ شدت، جو تین مختلف طاقتوں کے ذریعے پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل رہی ہے، کے لیے "متحارب فریقین کی مذاکرات کی خواہش" درکار ہے۔
اگرچہ ترکیہ نیٹو کا رکن ہے، اس نے یوکرین جنگ پر غیرجانبدارانہ موقف اپنایا ہے تا کہ ماسکو کے ساتھ تعلقات برقرار رہ سکیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیل کا ایران کے ساتھ جنگ چھیڑنے میں ناقابلِ تردید کردار ترک قیادت کو غیرجانبدارانہ موقف اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ماہرِ تعلیم اوزگُر کورپے کہتے ہیں کہ ،"ترکیہ ایران کے خلاف کوئی موقف اختیار نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اس ملک کو مشکلات سے بھی دو چار نہیں کرنا چاہتا جس کے ساتھ اس کے مضبوط تاریخی اور ثقافتی رشتے استوار ہیں۔
کورپے نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا کہ "ترکیہ کی پوزیشن انقرہ کے ساتھ ایران کے موقف کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ دراصل ترکیہ کے سرکاری بیانات اسی سمت میں ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر ترکیہ نے غیرجانبداری کو حکمتِ عملی کے طور پر چنا ہے اور وہ اسے جاری رکھے گا۔"
یوکرین جنگ کی طرح، ترکیہ بین الاقوامی بحرانوں کے سلسلے میں غالباً "غیرجانبداریِ فعال" کواپنائے گا، نہ کہ محض غیرجانبداریِ ساکت۔
کورپے کا مزید کہنا ہے کہ"ترکیہ شاید اس جنگ میں اس وقت ہی ملوث ہو جب اس کی سرزمین کو نشانہ بنایا جائے۔ یہ وہ خطرہ ہے جو نہ تو اس وقت لڑ نے والے فریقین چاہیں گے اور نہ ہی اس کی جرات کریں گے
بحران کے دور میں پناہ گاہ
ماہرین کا ماننا ہے کہ ترکیہ کا جنگ مخالف موقف اور اس کی موجودہ ثالثی کی کوششیں ایسے بحرانوں میں علاقائی پناہ گاہ بننے کی اس کی منفرد صلاحیت کو اجاگر کرتی ہیں، جیسا کہ عراق پر امریکی حملے اور شام کے خانہ جنگی کے دوران دیکھا گیا۔
ماضی میں ترکیہ کے فوجی اتاشی کے طور پر تہران میں تعینات عمر اوزگل کا کہنا ہے کہ اگرچہ ترکیہ اور ایران کے درمیان بشار الاسد کے بعد کے شام کے مسئلے اور لبنان میں حزبِ اللہ کے کردار جیسے امور پر سیاسی اختلافات ہیں، انقرہ کے تہران کے ساتھ تاریخی روابط ایردوان کو شیعہ اکثریتی ملک کی قیادت کو سمجھنے اور مؤثر انداز میں نمٹنے کے قابل بناتے ہیں۔
دوسرے ماہرین اوزگل کے جائزے سے اتفاق کرتے ہیں۔
توعا کا کہنا ہے کہ "ایران کے لیے ترکیہ کے خلاف دشمنانہ موقف اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں اور اس طرح کا قدم کئی حوالوں سے ایران کے لیے اس کی جنگی حکمتِ عملی کے نقطہ نظر سے ایک اسٹریٹجک غلطی ہو گا۔ لہٰذا ترکیہ تنازع سے دور ایک محفوظ پناہ گاہ بنے رہے گا۔
یہ حکمتِ عملی خلیجی ممالک کے لیے بھی درست معلوم ہوتی ہے، جن کی معیشتیں اپنی توانائی برآمدات، خوراک کی درآمدات اور موسمی سیاحت سیکٹر پر بہت حد تک منحصر رہی ہیں۔
شدید جنگ کی صورتِ حال میں تمام خلیجی ممالک ا سنگین حالات کا سامنا کر رہے ہیں، کیونکہ ایران نے موثر انداز میں آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے جس سے اہم توانائی کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
اوزگل نے ٹی آر ٹی ورلڈ کو بتایا کہ خطے کے تنازعات کے بارے میں ترکیہ کا "منصفانہ موقف" نہ تو ایران کی نظروں سے اوجھل رہے گا اور نہ ہی خلیجی ریاستوں سے۔ “ترکیہ خلیجی ریاستوں اور ایران دونوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا رہے گا۔یں۔