ایرانی ڈرونز کےمقابلے کےلیےماہرین تعینات کیے ہیں:زیلنسکی
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایرانی شاہد ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں 201 یوکرینی اینٹی-ڈرون ماہرین تعینات کیے گئے ہیں جبکہ اضافی 34 ماہرین بھی ان کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ایرانی شاہد ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں 201 یوکرینی اینٹی-ڈرون ماہرین تعینات کیے گئے ہیں جبکہ اضافی 34 ماہرین بھی ان کوششوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔
زیلنسکی نے کہا کہ ہمارے دستے پہلے ہی متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب میں موجود ہیں اور کویت کی طرف جا رہے ہیں۔ ہم کئی دیگر ممالک کے ساتھ کام کر رہے ہیں،
وہ برطانیہ کی پارلیمان کے ویسٹ منسٹر کمیٹی روم میں تقریباً 60 پارلیمنٹرین سے خطاب کر رہے تھے، جہاں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُوٹّے بھی موجود تھے۔
زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین نے یہ فوجی ماہرین ہمارے شراکت داروں کی درخواست پر بھیجے ہیں جس میں امریکہ بھی شامل ہے ۔
انہوں نے کہا کہ درحقیقت یہ اس ڈرون معاہدے کا حصہ ہے جو ہم نے امریکہ کے ساتھ پیش کیا تھا، جس پر ہم نے مل کر کام کیا اور جو اب بھی زیرِ غور ہے، اور ہم اپنے تمام قابلِ اعتماد شراکت داروں کو ڈرونز پر عملی تعاون سے لے کر مستقبل کی دفاعی اتحاد تک اسی طرح کے معاہدے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی ڈرون مہنگے بنیادی ڈھانچے کے اہداف کی کم لاگت تباہی کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں، اور دعویٰ کیا کہ ایران نے روس کو انہیں لانچ کرنے کا طریقہ سکھایا اور انہیں تیار کرنے کی ٹیکنالوجی فراہم کی۔
انہوں نے کہا کہ روس نے پھر انہیں اپ گریڈ کیا اور اب ہمارے پاس واضح شواہد ہیں کہ خطے میں استعمال ہونے والے ایرانی شاہد ڈرونز میں روسی پرزے شامل ہیں
زیلنسکی نے مزید کہا کہ آج ایران کے ارد گرد جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہمارے لیے دور کا جنگی تنازعہ نہیں ہے، کیونکہ روس اور ایران کے درمیان تعاون ہے اور ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم بے اعتنا رہیں۔"
انہوں نے کہا کہ ایرانی شاہد ڈرون کی قیمت تقریباً $50,000 ہے لیکن اسے مار گرانے کے لیے شراکت دار اکثر ایسے میزائل استعمال کرتے ہیں جن کی قیمت $4 ملین تک ہوتی ہے یا پھر جنگی طیارے استعمال کیے جاتے ہیں۔