سیاست
5 منٹ پڑھنے
F-35 سے لیکر بحیرہ اسود تک: نیٹو انقرہ سمٹ کے اہم نتائج
دو دنوں کے دوران، اتحادی رہنماؤں نے وعدوں، دفاعی اقدامات، اور دو طرفہ معاہدوں کے سلسلے کا اعلان کیا جو نیٹو کے مستقبل کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔
F-35 سے لیکر بحیرہ اسود تک: نیٹو انقرہ سمٹ کے اہم نتائج
انقرہ میں نیٹو رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے دوران امریکی صدر ٹرمپ، نیٹو کے سیکرٹری جنرل روٹے، برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر اور ترک صدر اردوان۔ / Reuters

نیٹو کے 32 رکن ممالک کے رہنماؤں نے 7 اور 8 جولائی کو ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں ایک اہم سمٹ میں شرکت کی، جس نے تیزی سے بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول کے بیچ متعدد اہم نتائج دیے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے اس سمٹ کو "تاریخی" قرار دیا اور کہا کہ یہ اتحاد کے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کرے گا۔

ایف-35 جنگی جہاز کے پروگرام پر دوبارہ مذاکرات سے لے کر بحیرہ اسود کی سیکیورٹی تعاون کی توسیع تک، سمٹ میں سامنے آنے والے سب سے اہم معاہدے اور اعلانات درجِ ذیل ہیں۔

ترکیہ اور امریکہ نے ایف-35 کے مسئلے کے حل کے قریب قدم بڑھائے

سمٹ کی ایک بڑی پیش رفت انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان دفاعی مذاکرات کی تجدید سے آئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ ان کی انتظامیہ CAATSA پابندیاں اٹھانے اور انقرہ کے ایف-35 پروگرام میں واپسی کے سلسلے میں مذاکرات دوبارہ کھولنے کی جانب کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگرچہ کوئی رسمی معاہدہ دستخط نہیں ہوا، یہ اعلان برسوں میں سب سے مضبوط اشارہ ہے کہ دونوں فریق دفاعی تعلقات کی بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ایف-35 پروگرام میں ترکیہ کے کردار کی بحالی امریکہ-ترکیہ تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوگا جو کہ نیٹو کے جنوبی محاذ کو مضبوط کرے گا۔

بحیرہ اسود کے اتحادیوں نے اپنے مشترکہ سمندری سیکیورٹی مشن کو وسعت دی

ترکیہ، رومانیہ اور بلغاریہ نے بحیرہ اسود میں اپنے موجودہ بحری تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔

ابتدائی طور پر سمندری منائن صاف کرنے پر مرکوز یہ تین فریقی Mine Countermeasures Black Sea Task Group اب اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت بھی کرے گا، جن میں زیرِ آب کیبلز، آف شور توانائی کے مراکز، اور پائپ لائنز شامل ہیں۔

یہ توسیع شدہ مشن بحیرہ اسود کے خطے میں یوکرین-روس جنگ کے سلسلے میں جاری کشیدگی کے دوران سمندری سلامتی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔

نیٹو نے ڈراون ایج انیشی ایٹو کی بنیاد رکھی تاکہ اینٹی ڈراون صلاحیتوں کو فروغ دے

سیکریٹری جنرل مارک روُٹے نے نیٹو ڈرون ایج کا اعلان کیا، جو ایک نئی اتحاد گیر پہل ہے جس کا مقصد ڈرون اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجیوں میں سرمایہ کاری کو تیز کرنا ہے۔

اس پروگرام سے جدید اینٹی-یو اے وی نظاموں کے لیے فنڈنگ بڑھے گی اور نیٹو رکن ممالک میں ڈرون آپریٹرز کی تربیت میں اضافہ ہوگا۔ چونکہ ڈراون جدید جنگ میں روز بروز زیادہ مرکزی حیثیت اختیار کر رہے ہیں، یہ پہل اس بات کو یقینی بنانے کی راہ میں ایک قدم ہے کہ اتحادی تیزی سے اگلی نسل کے بغیر پائلٹ نظام تیار اور تعینات کر سکیں۔

انقرہ نے یورپ کے بڑھتے ہوئے دفاعی فنڈز تک رسائی کے لیے زور دیا

ترکیہ نے یورپ کے ابھرتے ہوئے دفاعی مالیاتی پروگراموں میں حصہ لینے کی مہم از سرِ نو شروع کی، جن میں وہ پروگرام شامل ہیں جو فی الحال یورپی یونین کے رکن ممالک کو ترجیح دیتے ہیں۔

ترک حکام کا موقف تھا کہ نیٹو کی سکیورٹی ساخت میں تمام اتحادیوں کو شامل کیا جانا چاہیے — نہ کہ صرف وہ جو یورپی یونین کے اندر ہیں۔

ترکیہ اور برطانیہ کا نیا دفاعی معاہدہ

ترکیہ اور برطانیہ نے نیٹو سمٹ کے دوران ایک نیا سیکیورٹی و دفاعی شراکت نامہ دستخط کیا، جو یورپ اور اس سے آگے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں دونوں بڑے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط کرے گا۔

صدر رجب طیب ایردوان کی سمٹ کے آخری دن برطانوی وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر سے ملاقات کے دوران یہ معاہدہ طے پایا۔

ترکیہ کا دفاعی اخراجات میں اضافے کا اعلان

انقرہ نے فوجی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافے کے منصوبے ظاہر کیے، جن میں ملک کے "اسٹیل ڈوم" انٹی گریٹڈ ایئر اور میزائل دفاعی نظام کے لیے تقریباً 24 بلین ڈالر شامل ہیں۔

یہ اعلان نیٹو کے طویل مدتی مقصد کے مطابق ہے جس کا ہدف دفاعی اخراجات میں اضافہ کرتے ہوئے ملکی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط کرنا ہے۔

اس سرمایہ کاری سے توقع کی جاتی ہے کہ ترکیہ کی مقامی دفاعی صنعت تیزی سے ترقی کرے گی اور ابھرتے ہوئے خطرات کے خلاف فضائی دفاع بہتر ہوگا۔

نیٹو نے نئے دفاعی صنعتی تعاون منصوبے پیش کیے

نیٹو ڈیفنس انڈسٹری فورم کے دوران، اتحادیوں نے ہتھیاروں کی تیاری بڑھانے اور سپلائی چین کو مضبوط کرنے کے لیے نئے کثیر القومی خرید و پیداوار کے اقدامات کا اعلان کیا۔

ترکیہ کے تیزی سے بڑھتے ہوئے دفاعی شعبے سے توقع ہے کہ وہ ان مشترکہ صنعتی منصوبوں میں بڑا کردار ادا کرے گا۔

یورپی اتحادیوں کا صنعتی تعاون میں گہرائی کا عہد

یورپی رہنماؤں نے میزائل دفاع، مصنوعی ذہانت، لاجسٹکس، اور مشترکہ خریداری میں قریبی تعاون پر زور دیا۔

سمٹ نے صرف خرچ کے اہداف پر توجہ دینے کے بجائے، زیادہ فوجی سازوسامان جلدی تیار کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

نیٹو نے یوکرین کے لیے طویل المدتی حمایت کا اعادہ کیا

یوکرین کے لیے حمایت سمٹ کے دوران ایک مرکزی موضوع بنی رہی۔

رہنماؤں نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ متعدد دوطرفہ ملاقاتوں کے دوران فوجی مدد اور مستقبل میں مربوط حمایت کے اپنے عہد کا اعادہ کیا۔

اگرچہ سمٹ کے دوران چند قانونی طور پر پابند معاہدے سامنے آئے، انقرہ میں کیے گئے اعلانات نے نیٹو کے لیے تین واضح ترجیحات کو اجاگر کیا: دفاعی پیداوار کو مضبوط بنانا، فوجی جدت کو تیز کرنا، اور اتحادیوں کے درمیان تعاون کو گہرا کرنا۔

ترکیہ کے لیے، یہ ملاقات اسے ایک اسٹریٹجک فوجی طاقت کے طور پر اور نیٹو کی دفاعی صنعتی بنیاد میں ایک بڑھتے ہوئے اہم کھلاڑی کے طور پر اس کے کردار کو مزید تقویت بخشتی ہے۔

 

دریافت کیجیے
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا گیا
آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی: ٹرمپ
مراکشی عہدیدار: غیر قانونی نقل مکانی سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری ہے
روس: جولائی میں ماسکو پر 6,000 سے زیادہ ڈرون حملے کیے گئے
ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریئٹ میزائل سسٹم لائسنس دینے پر اتفاق کیا ہے، زیلینسکی
فرانسیسی صدر میکرون کا ترکیہ سے آگ بجھانے والے طیارے روانہ کرنے کا شکریہ
متحدہ عرب امارات کی مغربی کنارے پر دو مساجد کو نذر آتش کیے جانے کی مذمت
رومانیہ نے دو دنوں میںفضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواز میں دوسرا ڈرون مار گرایا
ٹرمپ نیتن یاہو کی ترکیہ کو F-35 کی فروخت کی مخالفت پر طیش میں ہیں: رپورٹ
امریکہ نے ایران پر حملوں کو معطل کر دیا: رپورٹ
"اجلاس اچھا رہا"بہت سے مسائل حل ہوئے ہیں:ٹرمپ
نیٹو انقرہ سمٹ کا اختتامی اعلامیہ جاری
ٹرمپ: ہم ایردوان کے ساتھ ایف-35 کے معاملے پر بات کریں گے
ترک وزیر خارجہ فیدان: یورپی سلامتی کو یورپی یونین تک محدود نہیں کیا جا سکتا
فیدان  کے انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل امریکی سینیٹرز سے مذاکرات
یورپ انقرہ میں نیٹو اجلاس کو ٹرمپ کو اجتماعی دفاع میں اپنی دلچسپی دکھانے کا ،مظاہرہ کرے گا: جرمنی
انقرہ میں نیٹو سمٹ سے قبل پوتن اور ٹرمپ کی یوکرین کے معاملے پر بات چیت
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
روس اور امریکہ پر  عظیم جوہری طاقتیں ہونے کے ناطے عالمی سلامتی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پوتن
ایردوان اور میلونی نے انقرہ نیٹو سمٹ سے قبل دفاعی روابط پر بات چیت کی