اس وقت مذاکرات کی پیشکش ہتھیار پھینکنے کے مترادف ہو گی: حزب اللہ

ایسے میں کہ جب حزب اللہ کے حملے جاری ہیں اور اسرائیل  نے لبنان کے اندر "بفر زون" کو کھُلا کر رہا ہے، مذاکرات کرنا "ہتھیار پھینکنے" کے مترادف ہو گا: حزب اللہ

By
ایک شخص لبنان کے شہر نباتیہ میں 25 مارچ 2026 کو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ملبے کے پاس سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے گزر رہا ہے۔ / Reuters

حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا  ہےکہ ایسے میں کہ جب حزب اللہ گروپ حملے کر رہا ہے اور اسرائیل  نے لبنان کی سرحدوں کے اندر "بفر زون" کو کھُلا کرنے کا اعلان کیا ہے، مذاکرات کرنا  "ہتھیار پھینکنے" کے مترادف ہو گا۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا  ہے کہ فوج  پہلے ہی ایک "حقیقی سکیورٹی زون" قائم کر  چُکی  ہے جسے لبنان کے اندر مزید گہرائی تک  بڑھایا جا رہا ہے۔

اسرائیل وزارتِ اعظمیٰ  دفتر کے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں نیتان یاہو نے کہا ہے کہ "اصل میں  ہم ایک بڑا بفر زون بنا رہے ہیں ۔ یہ بفر زون اسرائیل پر زمینی  اور میزائل حملوں کو روک سکتا ہے"۔

دوسری طرف  حزب اللہ نے اسرائیلی فوجوں  پر حملوں کےدعوے پر مبنی بیسیوں بیانات  جاری کئے اور کہا ہے کہ اس نے جمعرات کی صبح سے اسرائیل کے مرکز  میں واقع فوجی اہداف پر  بھی میزائل داغے ہیں اور علاقے سے  فضائی حملے کے وارننگ سائرن سُنے گئے ہیں۔

چینل 12 اور دیگر اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق لبنان سے اسرائیل کے مرکزی علاقوں کی جانب داغے گئے چھ راکٹوں کو گرا دیا گیا ہے  اور متاثرہ مقامات کی جانچ کے لیے ہنگامی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریش نے دونوں فریقوں سے فائر بندی کا مطالبہ کیا اور اسرائیل کو جنوبی لبنان میں ، وسیع پیمانے پر نقل مکانی اندیشوں کا سبب بن سکنے والے، "غزہ ماڈل" کو دہرانے  سے پرہیز کرنے  کی تنبیہ کی ہے۔

حزب اللہ نے کہا  ہےکہ اس کے جنگجوؤں نے بدھ کو 80 سے زائد حملے کیے، جو موجودہ جنگ میں کسی ایک دن میں حملوں کی سب سے زیادہ تعداد تھی۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کی طرف سے 2 مارچ کو ایران کے اُس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کا انتقام لینے کے لیے اسرائیل کی طرف راکٹ داغے جانے کے بعد سے لبنان بھی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں گھسٹ گیا ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے بدھ کو جاری کردہ بیان میں  کہا  ہےکہ حزب اللہ گروپ اس وقت مذاکرات پر ہرگز آمادہ نہیں ہو گا۔ایسے میں کہ جب  دشمن اسرائیل کے ساتھ فائر  جاری ہےاگر مذاکرات کی پیشکش کی جاتی ہے تو یہ ہتھیار پھینکنے  کے مترادف ہو گا۔"