اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کر دیا
موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہماری حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے: میلونی
اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کر دیا ہے۔
وزیر اعظم جارجیا میلونی نے منگل کے روز جاری کردہ بیان میں اٹلی کے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اطالوی خبر رساں ایجنسی ANSA کے مطابق، ویرونا میں ایک تقریب کے موقع پرذرائع ابلاغ کے ساتھ بات چیت میں میلونی نے کہا ہے کہ "موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہماری حکومت نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خودکار تجدید کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔"
مذکورہ معاہدہ فوجی سازوسامان اور ٹیکنالوجی کی تحقیق کے شعبوں میں تعاون پر محیط ہے۔ معطلی کا یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اطالوی حکومت کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے اندرون ملک شدید تنقید کا سامنا ہے۔ یہ تنقید خاص طور پر غزہ میں جاری جنگ اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتی ہوئی تشدد کی لہر پر مرکوز ہے۔
گزشتہ ہفتے، اٹلی نے لبنانی سرحد پر اسرائیلی افواج کی جانب سے اقوام متحدہ کی امن فوج'یونیفل' کی ایک گاڑی پر فائرنگ اور اسے تباہ کرنے کے واقعے پر اسرائیلی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا تھا۔ حملے کا نشانہ بننے والی یونٹ میں اطالوی اہلکار بھی شامل تھے۔
جنوری کے آخر میں پیش آنے والے ایک اور واقعے میں روم نے، مقبوضہ مغربی کنارے کے دورے کے دوران دو اطالوی فوجی پولیس اہلکاروں کو بندوق کی نوک پر دھمکانے کی وجہ سے بھی، اسرائیلی سفیر کو طلب کیا تھا۔
اٹلی وزارت خارجہ کے مطابق سفارتی گاڑی میں سفر کرنے والے ان افسران کو ایک مسلح اسرائیلی کہ جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ ایک غیر قانونی آباد کار تھانے گھٹنوں کے بل بیٹھنے پر مجبور کیا اور ان سے پوچھ گچھ کی تھی۔