ایران: حملہ ہوا تو ہم جوابی کاروائی تک محدود نہیں رہیں گے

واشنگٹن کے، تہران پر عسکری حملے کی صورت میں اسرائیل اور امریکہ کے عسکری و جہاز رانی مراکز کو 'جائز اہداف' قبول کیا جائے گا: محمد باقر قالیباف

By
ٹرمپ نے ہفتے کو کہا کہ ایرانی "آزادی کے متلاشی ہیں،" اور مزید کہا کہ واشنگٹن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ [فائل فوٹو] / Reuters

ایران پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے، تہران پر عسکری حملہ کرنے کی صورت میں اسرائیل اور امریکہ کے عسکری و جہاز رانی مراکز کو 'جائز اہداف' قبول کیا جائے گا۔

اتوار کو منعقدہ پارلیمانی اجلاس میں قالیباف نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ "جائز دفاع کے دائرے میں، اپنے خلاف کسی کارروائی کے بعد، ہم خود کو محض جوابی کاروائی  تک ہی محدود نہیں رکھتے۔ اگر امریکی فوجی حملہ ہوا تو مقبوضہ علاقے (اسرائیل) بھی اور امریکی فوجی وجہاز رانی مراکز بھی ہمارے لیے قانونی اہداف ہوں گے"۔

انہوں نے کہا ہے کہ "حالِ حاضر میں ایران، اقتصادی، فکری، عسکری اور دہشت گردی جنگ پر مشتمل، چار محاذوں پر اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ نبرد آزما ہے اور یہ محاذ بیک وقت کھولے گئے ہیں "۔

دوسری طرف ٹرمپ نے بروز ہفتہ جاری کردہ بیان میں، ایران میں 28 دسمبر سے جاری احتجاجی مظاہروں پر بات کی اور کہا ہے کہ 'ایرانی آزادی کی طرف دیکھ رہے ہیں' اور 'واشنگٹن ایرانیوں کو  مدد کی فراہمی پر تیار ہے'۔