فرانس: کسان ٹریکٹروں سمیت پیرس پہنچ گئے
فرانس کے کسان حالیہ ایک ہفتے کے دوران دوسری دفعہ ٹریکٹروں کے ساتھ پیرس میں داخل ہو گئے
فرانس کے کسان حالیہ ایک ہفتے کے دوران دوسری دفعہ ٹریکٹروں کے ساتھ پیرس میں داخل ہو گئے ہیں۔
اطلاع کے مطابق فرانس کے کسان، فرانس کی بڑی ترین لیبر یونیوں میں سے FNSEA کے زیرِ انتظام اوراقوام متحدہ۔مرکوسر تجارتی سمجھوتے کے خلاف احتجاج کے لئے، اپنے ٹریکٹروں کے ساتھ ایک ہفتے میں دوسری بار دارلحکومت میں داخل ہو گئے۔ کسانوں کا موقف ہے کہ اقوام متحدہ۔مرکوسر تجارتی سمجھوتہ جنوبی امریکہ کی سستی زرعی اجناس درآمدکر کے مقامی زراعت کے لیے غیر منصفانہ مقابلہ پیدا کرے گا اور ملکی زراعت کو خطرے میں ڈال دے گا۔
یورپی یونین کے سب سے بڑے زرعی ملک 'فرانس' کے اور دیگر رکن ممالک کے کاشتکار مہینوں سے اقوام متحدہ۔مرکوسر معاہدے اور متعدد مقامی مسائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
پیرس پولیس نے کہا ہے کہ حالیہ مظاہرے میں تقریباً 350 ٹریکٹروں نے حصّہ لیا۔ ٹریکٹروں پر سوار کسانوں کا ایک قافلہ 'آرک دے ٹرائیمف' کے پاس جمع ہوا اور دوسرا فرانس پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے۔
FNSEA کے نائب صدر اور پیرس کے کسان 'ڈیمن گریفن' نے کہا ہے کہ "یورپی پارلیمنٹ کا موقف لئے بغیر مرکوسر معاہدہ منظور کر لیا گیا ہے۔ اس معاہدے سے ایسی غیر ملکی اجناس درآمدات کی جائیں گی جو ہم خود فرانس میں اُگا سکتے ہیں۔ یہ درآمدی زرعی اجناس فرانس کی کاشتکاری پر لاگو معیاروں سے بھی بری رکھی جائیں گی"۔
گریفن نے کہا ہےکہ کسان منگل کو فرانس پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کے بعد 20 جنوری کو سٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ کے سامنے بھی مظاہرہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
فرانس کی مخالفت کے باوجود بروز جمعہ زیادہ تر اقوام متحدہ ممالک نے مرکوسر معاہدے کی منظوری دے دی تھی۔ معاہدے کے باعث کسانوں، حزبِ اختلاف اورعدم اعتماد تحریک کی تجویز دینے والی بعض جماعتوں کی طرف سے حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے ۔
'کوآرڈی نیشن رورالے' نامی ایک اور کسان یونین نے بروز جمعرات ایک آنی مظاہر ہ کیا اور اپنے ٹریکٹر ایفل ٹاور اور آرک دے ٹرائیمف کے نیچے لا کھڑے کئے تھے۔