ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کو 6.67 بلین ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی
وزارت خارجہ نے 30 اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹروں اور 3,000 سے زیادہ ٹیکٹیکل گاڑیوں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے امریکہ کے محکمہِ خارجہ کے مطابق اسرائیل کو 6.67 بلین ڈالر مالیت کے نئے اسلحہ معاہدے کی منظوری دے دی ہے، جس میں اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر اور ہلکی ٹیکٹیکل گاڑیاں شامل ہیں۔
محکمہِ خارجہ نے جمعہ کی رات گئے اس پیکیج کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ چار مختلف ڈیلز پر مشتمل ہے۔
یہ منظوری مشرقِ وسطی میں ایران پر امریکی فوجی حملوں کے امکان کے سبب بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان دی گئی ہے۔
پیکیج کا سب سے بڑا حصہ 30 اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹروں پر مشتمل ہے، جن کے ساتھ متعلقہ ساز و سامان اور ہتھیار بھی شامل ہیں، اور اس کی قدر 3.8 بلین ڈالر بتائی گئی ہے۔
محکمہِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان ہیلی کاپٹروں کو راکٹ لانچر اور جدید ہدف بندی کے نظام سے لیس کیا جائے گا۔
دوسرا سب سے بڑا جزو 3,250 جوائنٹ لائٹ ٹیکٹیکل وہیکلزکی فروخت ہے، جنہیں اہلکاروں اور لاجسٹکس کی نقل و حمل کے لیے اور اسرائیلی فوج کے رابطوں کے دائرے کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائیگا۔ اس حصے کی مالیت 1.98 بلین ڈالر ہے۔
باقی حصوں میں نمر (Namer) آرمرڈ پرسنل کیریئر کے لیے پاور پیکس کے لیے 740 ملین ڈالر اور AW-119Kx ہلکے یوٹیلٹی ہیلی کاپٹروں کے لیے 150 ملین ڈالر شامل ہیں، محکمہِ خارجہ نے کہا کہ یہ منظوری اسرائیل کی "دفاعی" صلاحیتوں کی مدد کے لیے ہے۔