کیوبا کو تیل ملتا رہے گا:روس
یہ وعدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے کیوبا پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے
روسی سفیر نے ہووانا میں کہا ہے کہ روس کیوبا کو تیل کی فراہمی جاری رکھے گا۔
روسی سفیر وِکٹر کورونیلی نے ملکی خبر رساں ایجنسی RIA سے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ عمل جاری رہے گا ۔
یہ وعدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کی جانب سے کیوبا پر سفارتی اور اقتصادی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کے سلسلے میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا، جزیرے کی حکومت کو ایک غیر معمولی اور غیر متوقع خطرہ قرار دیا اور ہوانا کو تیل فراہم کرنے والے کسی بھی ملک پر محصول عائد کرنے کی دھمکی دی۔
یہ جارحانہ پالیسی کیوبا کی قیادت کو الگ تھلگ کرنے اور اس کی توانائی تک رسائی محدود کرنے کی کوشش ہے ۔
وینیزویلا جو تاریخی طور پر کیوبا کا سب سے بڑا فراہم کنندہ رہا ہےاس نے اب امریکی دباؤ کے باعث ترسیلات روک دی ہیں، جس کے نتیجے میں ایندھن کی وسیع قلت، خوراک اور نقل و حمل کے اخراجات میں تیزی اور یہاں تک کہ دارالحکومت ہوانا میں گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی بند ہونے کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔
کیوبا کی حکومت نے امریکی اقدامات کی مذمت کی ہے، اور حکام نے محصولات کی دھمکیوں اور پابندیوں کو جزیرے کی معیشت کا گلا گھونٹنے اور اس کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
احتجاجات اور سرکاری مذمتوں نے توانائی کی ممکنہ مزید کٹوتیوں کے بارے میں عوامی بے چینی کی گہرائی کو اجاگر کیا ہے۔
ماسکو کی تجدید شدہ وابستگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ روس ہوانا کے ساتھ اپنے تعلقات کو کتنی حکمتِ عملی اہمیت دیتا ہے۔
روس اور کیوبا نے برسوں سے توانائی کے تعاون کے انتظام برقرار رکھے ہیں، اور ماسکو پہلے بھی دو طرفہ معاہدوں کے تحت جزیرے کو بڑی مقدار میں تیل اور پیٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے پر رضا مند ہو چکا ہے۔
اگرچہ روس کی جاری فراہمی عارضی ریلیف فراہم کر سکتی ہے البتہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جغرافیائی سیاسی دباؤ کے بڑھنے اور روایتی فراہم کنندگان کی ترسیلات محدود ہونے کے باعث کیوبا کی مجموعی توانائی سیکیورٹی کمزور رہ سکتی ہے۔