سعودی عرب نے 3 بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ کر دیا

سعودی عرب نے پرنس سلطان ایئر بیس کو ہدف بنا کر فائر کئے گئے تین بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

By
میزائل اور ڈرون حملوں کے پھیلاؤ کے باعث علاقائی کشیدگی مزید گہری ہو گئی ہے۔ / Reuters

سعودی عرب کے حکام  نے پرنس سلطان ایئر بیس کو ہدف بنا کر فائر کئے گئے  تین بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ بنانے   کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ یہ واقعہ، پورے مشرقِ وسطیٰ میں عسکری تناو کےبڑھتے ہوئے  اثرات  کی ایک تازہ علامت ہے۔

یہ واقعہ اسرائیل۔امریکہ گروپ  اور  ایران کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی  کے دوران پیش آیا ہے۔ جنگ  میں حالیہ دنوں کے دوران  خلیج سميت خطے کے کئی حصوں میں میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ کیا گیاہے۔

یہ پیش رفت سعودی عرب اور دیگر کئی خلیجی ممالک کو ہدف بنانے والے بار بار کے حملوں کے بعد  سامنے آئی ہے۔ ایران کو، علاقے کی عسکری و اقتصادی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے کا قصوروار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

زیادہ وسیع علاقائی جنگ کے خطرے اور خاص طور پر دنیا بھر  کے لئے پیٹرول کی رسد کے حوالے سے خلیج کی مرکزی اہمیت کو نگاہ میں رکھا جائے تو بڑھتی ہوئی کشیدگی نے گلوبل انرجی منڈیوں کے لئے ممکنہ اقتصادی نتائج کی تشویش میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔

جبری نقل مکانی  میں اضافہ

ادھر، اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین  'یو این ایچ سی آر'  نے کہا ہے کہ جاری تنازعات کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں کم از کم 330,000 افراد جبری نقل مکانی کر چُکے ہیں۔

اس تعداد میں حالیہ دنوں میں تہران سے فرار ہونے والے تقریباً 100,000 افراد اور لبنان میں 84,000 سے زائد افراد بھی شامل ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ اس نے، گہرائی میں مدفون  بیلسٹک میزائل لانچروں اور کم از کم 30 ایرانی جہازوں سمیت، ایران میں تقریباً 200 اہداف پر حملے کیے ہیں ۔

جواب میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے تل ابیب اور اسرائیل کے مرکزی علاقوں کے دیگر حصوں پر  ڈرون اور میزائل حملوں کا اعلان کیا ہے۔

اس دوران ایران نے تہران کے 12,000 نشستوں  والے 'آزادی اسپورٹس کمپلیکس'  پر امریکی اور اسرائیلی حملے کی مذّمت کی اور اسے بین الاقوامی قانون اور اولمپک چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔