امریکہ: اسرائیل ذمہ داری قبول کرے

امریکہ کا مطالبہ: اسرائیل، غزہ بھر میں پھیلائے ہوئے وسیع ملبے کی صفائی کی ذمہ داری قبول کرے

By
جنوبی غزہ کے رفح میں، 8 دسمبر 2025 کو، عمارتیں ملبے کے درمیان تباہ حال پڑی ہیں۔ / Reuters

امریکہ نے اسرائیل سے، غزہ بھر میں پھیلائے ہوئے وسیع ملبے کی صفائی کی ذمہ داری قبول کرنے کا، مطالبہ کیا ہے ۔

اسرائیلی روزنامے یدیوت آہرنوت  نے بروز  جمعرات شائع کردہ خبر میں کہا ہے کہ   امریکہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ، دو سال سے زیادہ عرصے سے جاری نسل کشی حملوں کے  دوران غزّہ بھر میں پھیلائے ہوئے ملبے کے دیو ہیکل ڈھیروں کی، صفائی کی ذمہ داری قبول کرے۔  

روزنامے نے ایک اعلیٰ سیاسی ذریعے کے حوالے سے کہا  ہےکہ اسرائیل نے فی الحال امریکی درخواست قبول کر لی ہے لیکن ملبے کی صفائی رفح کے ایک پائلٹ محلے  سے شروع کرے گا۔

خبر کے مطابق واشنگٹن، اسرائیل سے آخرکار  پورے علاقے کی صفائی کی توقع رکھتا ہے۔اس کام  میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس کی لاگت 1 بلین  ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔فی الحال عرب اور دیگر بین الاقوامی فریقین ملبہ ہٹانے کی مالی معاونت  سے انکاری  ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے وال اسٹریٹ جرنل نے  پورے علاقے میں وسیع پیمانے کی تباہی کے حوالے سے شائع کردہ خبر میں کہا تھا  کہ " غزہ تقریباً 68 ملین ٹن ملبے تلے دب چُکا ہے"۔

اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اندازے کے مطابق یہ ملبہ تقریباً 186 ایمپائر اسٹیٹ عمارتوں کا ہم وزن  ہے۔

فلسطینی حکامِ صحت کے مطابق اسرائیل،  اکتوبر 2023 سے غزّہ پر مسلّط کردہ  نسل کشی میں، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل،  70,300 سے زیادہ  فلسطینیوں کو قتل  اور  171,000 سے زائد کو زخمی کر چُکا ہے۔

رواں سال ماہِ اکتوبر میں نافذ ہونے والی جنگ بندی  حملوں کو روک میں ناکام رہی ہے۔