وٹکوف: ایران کے ساتھ مذاکرات 'اس ہفتے' ہوں گے، ٹرمپ: ہم معاہدے کے قریب ہیں

امریکی خصوصی نمائندے کا کہنا ہے کہ 15 نکاتی منصوبہ میز پر ہے، اور اس سے مسئلے کا حل نکل سکتا ہےت ہم ہران سے جواب کے منتظر ہیں۔

By
امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف نے کہا کہ وہ آئندہ ایران مذاکرات میں پیش رفت کے لیے پرامید ہیں۔ / Reuters

امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ "اس ہفتے" مذاکرات کرے گا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس  دعویٰ کا اعادہ کیا ہے کہ تہران کسی معاہدے کا خواہاں ہے۔

وٹکوف نے جمعہ کو میامی میں ایک  بزنس  فورم میں ایران کے مذاکرات کے بارے میں دریافت کیے جانے پر کہا کہ: "ہم سمجھتے ہیں کہ اس ہفتے ملاقاتیں ہوں گی، ہم اس کے لیے یقیناً پرامید ہیں۔"

وٹکوف نے کہا"ہمارے پاس میز پر 15 نکاتی منصوبہ ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ایرانی اس کا جواب دیں گے۔ یہ سب حل کر سکتا ہے۔"

وٹکوف نے کہا کہ ٹرمپ کے اس غیر ثابت شدہ دعوے کی بازگشت میں  ایران نے حسنِ نیت دکھانے کے لیے آبنائے  ہرمز سے 10 آئل ٹینکرز کو گزرنے دیا، یہ ایک بہت بہت اچھا اشارہ ہے۔"

ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت دھمکیوں کو اس دعوے کے ساتھ ملایا ہے کہ تہران آنے والے ہفتوں میں معاہدے پر آمادہ ہو سکتا ہے اور جنگ ختم ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنے ہمراہ سفر کرنے  والے صحافیوں سے کہا، "انہیں تباہ کیا جا رہا ہے۔"

"وہ بات کر رہے ہیں، ہم بات کر رہے ہیں۔ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔"

"ہفتوں کا معاملہ، مہینوں کا نہیں"

سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے کہا کہ واشنگٹن توقع کرتا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی فوجی مہم "چند ہفتوں کے معاملے" میں ختم کر لے گا، اور امریکہ بغیربری افواج تعینات کیے اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔

امریکہ اور اسرائیل 28 فروری سے ایران پر فضائی حملے کر رہے ہیں، جن میں 1,340 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران نے جوابی کارروائی میں ڈرون اور میزائل حملے کیے ہیں جو اسرائیل کے ساتھ ساتھ اردن، عراق اور ان خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بناتے ہیں جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں، جس سے جانی و مالی نقصان اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ عالمی منڈیوں اور ہوابازی میں خلل پڑا ہے۔