چین: مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط سے کام لیا جائے
آذربائیجان کے ناہچیوان خودمختار علاقے پر ڈرون حملے کے بعد چین کی اپیل: "مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط سے کام لیا جائے"
چین نے، بروز جمعرات آذربائیجان کے ناہچیوان خودمختار علاقے پر ڈرون حملے کے بعد، جھڑپوں کے پھیلنے کی وارننگ دی اور مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط کی اپیل کی ہے ۔
چین وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماو ننگ نے آج بروز جمعہ اخباری نمائندوں کے لئے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہم مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدگیوں پر سخت تشویش محسوس کر رہے ہیں۔ اس وقت جو ضروری ہے وہ یہ کہ فوجی کارروائیاں فوری طور پر روک دی جائیں ، جھڑپوں کے پھیلاو اور دیگر ممالک میں سرایت کو روکا جائے اور مزید کسی بھی شدّت پذیری سے پرہیز کیا جائے"۔
واضح رہے کہ آذربائیجان کے حکام نے اس حملے میں چار افراد کے زخمی ہونے اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا اعلان کیا تھا۔
بیان کے مطابق ایک ڈرون نے ناہچیوان بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل کو نشانہ بنایا اور دوسرا شاکرآباد گاؤں کے قریب ایک اسکول کے نزدیک گرا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے کیونکہ اسرائیل اور امریکہ ایران پر ساتویں روز بھی بڑے پیمانے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں، دینی رہنما علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ فوجی حکام سمیت، تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک ہوگئے ہیں ۔
ایران نے جواب میں ڈرون اور میزائل حملے کیے جن کا ہدف اسرائیل اور امریکی فوجی اثاثوں والے خلیجی ممالک تھے ۔
ایران کی حمایت کا اعادہ کیا
ماؤ نے مزید کہا ہے کہ چین ایران پر ، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ،امریکی اور اسرائیلی حملوں کی مخالفت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بیجنگ ، خودمختاری، سلامتی، علاقائی سالمیت اور قومی وقار کے تحفظ اور اپنے جائز حقوق و مفادات کے دفاع کے معاملات میں ایران کی حمایت کرتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں کہ چین نے ایران کو سیاسی یا دیگر حوالوں سے کس قسم کی حمایت فراہم کی ہے؟
علاقے میں تنازعے کی وجہ سے توانائی کی فراہمی کے خطرات کے حوالے سے ماو نے کہا ہے کہ "آبنائے ہرمز اور اس کے متصل پانی 'سامان اور توانائی کی تجارت کے لیے ضروری بین الاقوامی راستے' ہیں۔اس خطے میں سکیورٹی اور استحکام کو برقرار رکھنا بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے"۔
ماؤ نے کہا ہے کہ "چین، تمام فریقین سے فوری طور پر فوجی کارروائیاں بند کرنے، کشیدگی میں مزید شدت سے بچنے، علاقائی اضطراب کو روکنے اور عالمی اقتصادی ترقی پر شدید اثرات مرتب کرنے سے گریز کرنے کی اپیل کرتا ہے"۔
امریکہ اور اسپین کے درمیان کشیدگیوں کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ"بین الاقوامی برادری کو مل کر امن کو فروغ دینا چاہیے، جنگ روکنی چاہیے، اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کا تحفظ کرنا چاہیے"۔