جاپان: ساحلی شہر آگ کی لپیٹ میں، ایک شخص ہلاک
ساگانوسکی میں لگنے والی آگ نے 170 سے زائد عمارتوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ واقعے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے
جنوبی جاپان کے ساحلی ضلعے 'اوئیٹا' کے شہر ساگانوسکی میں لگنے والی آگ نے 170 سے زائد عمارتوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے۔ واقعے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے اور عسکری و فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بدھ کو نشریاتی اداروں کے جاری کردہ ویڈیو مناظر میں ساگانوسیکی میں منہدم ہوتے گھر اورمتاثرہ مقامات سے اٹھتے دھویں کے ستون دکھائی دے رہے ہیں۔ ساگانوسکی ایک ماہی گیری بندرگاہ کے سامنے واقع ہے اور اپنے معیاری 'سیکی' برانڈ 'اسقمری' مچھلی کی وجہ سے مشہور ہے۔ آگ کو حالیہ نصف صدی کی بڑی ترین شہری آتشزدگی قرار دیا جا رہا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تیز ہواؤں کے باعث آگ قریبی جنگلاتی ڈھلوانوں اور ساحل سے کئی کلومیٹر اندر غیر آباد جزیرے تک پھیل چُکی ہے۔
جاپان محکمہ آفات کے مطابق آگ منگل کی شام سے مسلسل جاری ہے اور اب تک 48,900 مربع میٹر رقبہ تباہ ہو چکا ہے۔ ٹوکیو سے تقریباً 770 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ساگانوسکی سے 175 رہائشیوں کو ایک ہنگامی پناہ گاہ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ نے محکمہ پولیس کے حوالے سے ایک شخص کی گمشدگی اور ایک 50 سالہ عورت کے معمولی زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔زخمی عورت کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
جاپان کی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "میں، اس سرد موسم میں پناہ گاہ میں منتقل ہونے والے تمام شہریوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں۔"
انہوں نے کہا ہے کہ "حکومت مقامی حکام کے ساتھ مل کر جس قدر ممکن ہو سکا مدد فراہم کرے گی۔"
کیوشو الیکٹرک پاور کے مطابق آگ کی وجہ سے شہر کے تقریباً 300 گھروں کے لئے بجلی کی ترسیل منقطع ہو گئی ہے۔
جلتی ہوئی عمارتوں کی تعداد اور شعلوں کی لپیٹ میں آئے رقبے کے اعتبار سے اس آگ کو، زلزلوں کے علاوہ، 1976 میں ساکاتا میں لگنے والی آگ کے بعد جاپان کی سب سے بڑی شہری آگ بتایاجا رہا ہے۔
2016 میں ایٹوئیگاوا میں لگنے والی آگ میں 147 عمارتیں اور تقریباً 40,000 مربع میٹر رقبہ جل گیاتھا اور کئی اموات ہوئی تھیں۔