سیاست
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ اور پاکستان کا فلسطینی عوام کے لیے اپنی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ
صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان فلسطینی عوام کو ہر ممکنہ سیاسی، سفارتی، انسانی اور اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے موقف کو جاری رکھے گا۔
ترکیہ اور پاکستان کا فلسطینی عوام کے لیے اپنی حمایت کا ایک بار پھر اعادہ
فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن ان کے حقوق اور ریاست کے قیام کی جدوجہد کے لیے عالمی حمایت کو اجاگر کرتا ہے۔ / Reuters
29 نومبر 2025

انقرہ اور اسلام آباد نے 29 نومبر کو فلسطینی عوام کے ساتھ بین الاقوامی یکجہتی کے دن کے موقع پر مسئلہ فلسطین کے لیے ایک منصفانہ اور پائیدار حل کے مطالبے کو اعادہ کیا۔

وزارتِ خارجہ نے ہفتہ کو جاری ایک بیان میں  مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ترکیہ کی طویل المدتی وابستگی پر زور دیا۔

بیان میں ترکیہ کی 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور متصل ریاستِ فلسطین  کے قیام کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے زور دیا گیا ہے ایسی ریاست خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

انقرہ نے یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں کے لیے اس کی حمایت 'متزلزل نہیں' ہے اور موجودہ علاقائی کشیدگی اور انسانی مسائل کے درمیان فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

بیان میں بین الاقوامی برادری پر زور  دیا گیا  کہ وہ ایک جامع حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے اور ترکیہ نے فلسطینی عوام کے حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کے لیے تمام اقدامات میں حصہ لینے کی اپنی آمادگی کی تصدیق کی۔

اسرائیلی فورسز کے مکمل انخلاء کا مطالبہ

پاکستانی خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق اسلام آباد نے بھی فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے بین الاقوامی دن کے موقع پر اپنے حمایتی موقف کی توثیق کی۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کو ہر ممکنہ سیاسی، سفارتی، انسانی اور اخلاقی حمایت فراہم کرتا رہے گا۔

ہم 1967ء کے جون سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار، قابلِ عمل اور متصل فلسطینی ریاست کہ جس کا دارالحکومت مشرقی القدس  ہو کے قیام کے لیے اپنی ثابت قدم حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

زرداری نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے اور اسلام آباد کی فلسطینی معاملے کی حمایت انسانی عظمت، انصاف اور مساوات جیسی عالمی اقدار پر مبنی ہے۔

دوسری طرف، پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ فلسطینیوں نے اس دور کے  تباہ کن المیوں میں سے  ایک کا سامنا کیا ہے، انہیں خود ارادیت کا حق نہیں دیا گیا، ان کی زمینیں چھینی گئیں، اور ان کا امن تباہ کر دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 'ان سنگین حقائق کے پیشِ نظر، بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف کیے گئے جنگی جرائم اور نسل کشی کے اقدامات کے لیے مکمل اور معتبر احتساب ہونا چاہیے۔'

انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ فلسطینی عوام مستقل امن اور خوشحالی کے حقدار ہیں، غزہ سمیت قبضہ شدہ فلسطینی اراضی سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کیا ۔

فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس اور اسرائیل مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں اور امریکہ کی حمایت کے ساتھ ایک جنگ بندی معاہدے تک پہنچے، جس کا پہلا مرحلہ 10 اکتوبر کو نافذ ہوا۔

اسرائیل نے اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ میں حملوں میں تقریباً 70,000 افراد، جن میں اکثریت خواتین اور بچے ہیں، ہلاک کر دیے اور 170,000 سے زائد کو زخمی کیا ہے۔

دریافت کیجیے
اتحادیوں کے درمیان اختلافات سے روس اور چین فائدہ اٹھا رہے ہیں: کالاس
ٹرمپ کی طرف سے غزہ بورڈ آف پیس کے بانی چیئر مین کے لیے ترک صدر کو دعوت نامہ
یوکرینی وفد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں روس کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر مذاکرات کے لیے امریکہ پہنچ گیا
ایران میں مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 3,000 سے تجاوز کر گئی
دہشت گرد تنظیم وائے پی جی کے سرغنہ کا دریائے فرات کے مغرب سے انخلاء کا اعلان
جنوبی افریقی ممالک میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ایک 100 سے زیادہ افراد ہلاک
کینیڈا چین کے درمیان دو طرفہ ٹیرف میں کمی کا فیصلہ
یوگنڈا کے انتخابات،حزب اختلاف کا احتجاج
ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 2,677 تک پہنچ گئی
ترکیہ عالمی سمندری تحفظ معاہدے میں شامل ہو گیا جو کہ نافذ ہونے والا ہے
ٹرمپ نے غزہ میں امن بورڈ کی تشکیل کا اعلان کردیا
ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب ایک دفاعی معاہدے کے قریب
مچادو نے اپنا امن نوبل تمغہ ٹرمپ کو دے دیا،نوبل کمیٹی کی سرزنش
چین نے شنگھائی تعاون تنظیم کا خصوصی نمائندہ متعین کر دیا
ایران نے فضائی حدود دوبارہ کھول دی