شمالی کوریا: ہم، سیول-واشنگٹن فوجی مشقوں کا جواب دیں گے

امریکہ اور جنوبی کوریا کی 11 روزہ "فریڈم شیلڈ" مشقوں کے بعد شمالی کوریا کی طرف سے کروز میزائل تجربہ

By
آرکائیو تصویر: میزائلوں نے بحیرہ زرد کے اوپر اپنے پروازی مدار پر پرواز کی اور مقررہ اہداف کو نشانہ بنایا۔ / Reuters

پیانگ یانگ نے کہا ہے کہ ہم، امریکہ اور جنوبی کوریا کی فوجی مشقوں کا جواب دیں گے۔

کوریا سینٹرل نیوز ایجنسی 'KCNA 'نے بروز بدھ جاری کردہ خبر میں کہا ہے کہ شمالی کوریا  نے حالیہ ایک  ہفتے کے دوران محارب بحری جہاز سے دوسری دفعہ کروز میزائل کا تجربہ کیا اور صدر  کم جونگ نے اپنی نوعمر بیٹی کے ہمراہ   ویڈیو لنک کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا  ہے۔

خبر میں تجربے کے مقام کو پوشیدہ رکھ کر کہا  گیا  ہے کہ کِم نے ایک نامعلوم مگر دُور دراز مقام سے اپنی نوعمر بیٹی کے ہمراہ ویڈیو لنک کے ذریعے اس تجربے کو دیکھا ہے۔

یہ کروز میزائل چو ہیون نامی محارب بحری جہاز سے مغربی ساحل کے نزدیک نامفو کے کھُلے سمندر سے  داغے گئے ہیں۔

KCNA نے کہا ہے کہ میزائلوں  نے بحیرہ اصفر کے اوپر اپنے  پروازی مدار  پرسفر کیا اور  مقررہ اہداف کو  کامیابی سےنشانہ بنایا ہے۔

ایجنسی   کے مطابق کم نے کہا ہے کہ "ہماری حربی مزاحمت  کے اجزاء کو موئثر،  تیز ترین اور مستقل  شکل میں جدید ترین آپریشنل سسٹم میں داخل کیا جا رہا ہے۔ ہمارے ملک کی جوہری طاقت کثیر الجہتی آپریشن  کے درجے تک پہنچ گئی ہے"۔

کِم نے تجربے پر اطمینان کا اظہار کیا اور  کہا ہے کہ تجربے نے "قومی مربوط اسٹرٹیجک اسلحہ کنٹرول سسٹم "پر اعتبار  کی تصدیق  کر دی ہے۔انہوں نے جنگی بحری جہازوں پر نصب کی گئی خودکار بحری توپوں کی عسکری کارکردگی  پر اطمینان کا اظہار کیا اور بحری قوت کو مضبوط کرنے کے لیے ہدایات دی ہیں۔

شمالی کوریا نے اسی نوعیت کا کروز میزائل تجربہ،  میزائل کو فوج کے حوالے کرنے سے قبل، گذشتہ  ہفتے اسی محارب  بحری  جہاز سے کیا  گیاتھا۔

یہ تازہ تجربہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے پیر کو 11 روزہ ’فریڈم شیلڈ‘ نامی مشقیں شروع کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پیونگ یانگ ایک طویل عرصے سے مذکورہ حلیف ملکوں کی مشترکہ فوجی مشقوں کو ’حملہ مشقیں‘ قرار دیتا آ رہا ہے۔