غزہ میں امن افواج کی تعداد 20,000 ہو سکتی ہے: انڈونیشیا
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو کے ترجمان نے منگل کو کہا کہ غزہ کے لیے تجویز کردہ کثیر القومی امن فوج کی تعداد تقریبا 20,000 ہو سکتی ہے، جبکہ انڈونیشیا کا اندازہ ہے کہ وہ 8,000 تک فوجی فراہم کر سکتا ہے
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سبیانتو کے ترجمان نے منگل کو کہا کہ غزہ کے لیے تجویز کردہ کثیر القومی امن فوج کی تعداد تقریبا 20,000 ہو سکتی ہے، جبکہ انڈونیشیا کا اندازہ ہے کہ وہ 8,000 تک فوجی فراہم کر سکتا ہے
پرابوو کو اس ماہ کے آخر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن بورڈ کے پہلے اجلاس کے لیے واشنگٹن مدعو کیا گیا ہے۔
انڈونیشیا نے گزشتہ سال غزہ کی امن فوج کے لیے 20,000 فوجیوں کی تعیناتی کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس نے کہا ہے کہ وہ فورس کے مینڈیٹ کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار کر رہا ہے تاکہ تعیناتی کی تصدیق کی جا سکے۔
صدارتی ترجمان پراسیٹیو ہادی نے صحافیوں کو بتایا کہ تمام ممالک کی ملا کر کُل تعداد تقریبا 20,000 ہے، البتہ فوجیوں کی درست تعداد ابھی تک زیر بحث نہیں آئی لیکن انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ وہ 8,000 تک فوجی فراہم کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم صرف خود کو تیار کر رہے ہیں اگر کوئی معاہدہ ہو جائے اور ہمیں امن فوج بھیجنی پڑے۔
ترجمان نے یہ بھی کہا کہ امن بورڈ کی مستقل رکنیت کے لیے 1 ارب ڈالر ادا کرنے سے پہلے مذاکرات ہوں گے۔
انہوں نے واضح نہیں کیا کہ مذاکرات کس کے ساتھ ہوں گے، اور کہا کہ انڈونیشیا نے ابھی تک پرابوو کی بورڈ میٹنگ میں شرکت کی تصدیق نہیں کی۔
دریں اثنا ،انڈونیشیا کی وزارت دفاع نے اسرائیلی میڈیا میں ان رپورٹس کی بھی تردید کی ہے کہ انڈونیشی فوجیوں کی تعیناتی غزہ کے رفح اور خان یونس میں ہوگی۔
وزارت دفاع کے ترجمان ریکو ریکارڈو سیرات نے رائٹرز کو ایک پیغام میں بتایا کہ انڈونیشیا کے غزہ میں امن اور انسانی امداد میں حصہ ڈالنے کے منصوبے ابھی تیاری کے مراحل میں ہیں، آپریشنل معاملات ابھی حتمی شکل میں نہیں آئے اور جب کوئی سرکاری فیصلہ اور بین الاقوامی مینڈیٹ واضح ہو جائے گا تو اعلان کیا جائے گا۔