صدر ایردوان: تیل کے لیے لڑی گئی جنگیں مستقبل میں پانی کی جنگ میں بدل جائیں گی
ہ ایک ایسی صدی میں جہاں تمام شعبوں میں طاقت کی جنگ زور پکڑ رہی ہے، پانی پیداواری عمل اور توانائی کے ایک کلیدی جز کے طور پر سب سے زیادہ اسٹریٹجک اور قیمتی وسیلہ ہے۔
ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ گزشتہ صدی میں تیل اور نامیاتی ایندھن کی جدوجہد آنے والے دور میں پانی کے لئے بدل جائے گی، کیونکہ طاقت کی جنگ میں تیزی آ رہی ہے۔
ریاستی ہائیڈرالک ورکس کی جانب سے قائم کردہ نئے کارخانے کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے ایردوان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی، آبادی میں اضافہ، شہر کاری اور صنعتی کاری جیسے عوامل آبی وسائل پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ دنیا بھر میں 2.2 ارب انسانوں کو پینے کےصاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ، اور بتایا کہ عالمی آبی ترقیاتی رپورٹ میں پیش کردہ ایک اندازے کے مطابق 2050 تک تقریباً چھ ارب لوگ مطلوبہ سطح تل صاف پانی تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر بن جائیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایک ایسی صدی میں جہاں تمام شعبوں میں طاقت کی جنگ زور پکڑ رہی ہے، پانی پیداواری عمل اور توانائی کے ایک کلیدی جز کے طور پر سب سے زیادہ اسٹریٹجک اور قیمتی وسیلہ ہے۔
صدر نے کہا کہ اس جدوجہد کی علامتیں خطے میں جاری مسلح تنازعات میں پہلے ہی دکھائی دے رہی ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے کل آبی ذخائرکا صرف 2.5 فیصد قابل ِ نوش ہے، اور عالمی آبادی جو 1960 میں تین ارب تھی سے بڑھ کر آج آٹھ ارب سے زائد ہو چکی ہے، جبکہ بارشوں کی مقدار تبدیل نہیں ہوئی۔
ایردوان نے مزید کہا کہ جب صاف پانی کے ذرائع کی ضرورت بڑھ رہی ہے تو تیز رفتار استعمال اور آلودگی کے باعث آبی وسائل بدقسمتی سے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔