امریکی کانگریس نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو طلب کر لیا
امریکی کانگریس کی مانیٹرنگ کمیٹی نے اٹارنی جنرل پام بونڈی کو بند کمرے کے حلفی بیان کے لیے طلب کر لیا
امریکی کانگریس کی مانیٹرنگ کمیٹی نے، ایپسٹین فائلوں پر غور کے لئے حکومتی طریقۂ کار کی سماعت پر ملک کے قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ عہدیدار کو طلب کر لیا ہے۔
اٹارنی جنرل پام بونڈی 14 اپریل کو بند کمرے کے حلفی بیان کے لیے پیش ہوں گی۔
یہ قدم رواں مہینے کے آغاز میں اور کمیٹی میں ،بونڈی کے بیان کی ضرورت کے موضوع پر، رائے شماری کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ کئی ریپبلکنوں نے بھی ڈیموکریٹوں کے ساتھ اس تجویز کی حمایت میں ووٹ دیا ہے۔
ایپسٹین کو، نابالغوں کے خلاف جنسی انسانی اسمگلنگ کے الزامات پر، مقدمے کے لئے وفاقی حراست میں لیا گیا اور 2019 میں وہ حراست کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔ ایپسٹین ایک طویل عرصے تک سیاسی و کاروباری اشرافیہ کے ساتھ قریبی تعلقات میں رہا تھا۔
ریپبلکن چیئرمین جیمز کومر نے بونڈی کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ کمیٹی اس بات پر غور کر رہی ہے کہ محکمۂ انصاف نے ایپسٹین سے متعلقہ دستاویزات کے اجراء کے قانون کی تعمیل کی ہے یا نہیں۔ کومر نے مواد کے جائزے اور اس کے افشاء کے طریقہ کار پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کومر نے، بونڈی کو مخاطب کر کے، لکھا ہے کہ بطور اٹارنی جنرل، آپ محکمہ انصاف کے ایپسٹین فائلوں کو شفافیت ایکٹ کے تحت جمع کرنے ان کاجائزہ لینے اور انہیں جاری کرنے سے متعلقہ فیصلوں کی نگرانی کی براہِ راست ذمہ دار ہیں لہٰذا کمیٹی سمجھتی ہے کہ آپ کے پاس ان کوششوں کے بارے میں قیمتی بصیرت موجود ہے"۔
دونوں سیاسی جماعتوں کے اسمبلی ممبران نے محکمۂ انصاف کی ،فائلوں کے اجرا سے متعلقہ، کارکردگی پر تنقید کی اور کہا ہے کہ فائلوں کی ایک بڑی تعداد ابھی بھی یا تو جاری ہی نہیں کی گئی یا پھر انہیں سختی سے سینسر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کانگریس اور ذرائع ابلاغ کے تجزیوں کے مطابق محکمہ انصاف نے اپنے پاس موجود چھ ملین صفحات میں سے تقریباً نصف جاری کئے ہیں اور کھُلی مندرجات یا پھر متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے والی ہزاروں فائلیں چُھپا لی ہیں۔
کچھ اسمبلی ممبران نے گم شدہ ریکارڈ کے بارے میں بھی خدشات ظاہر کیے ہیں۔ ممبران کے مطابق اس گمشدہ ریکارڈ میں وہ دستاویزات اور ویڈیو شواہد بھی شامل ہیں جنہیں قانون کے تحت فراہم کیا جانا ضروری تھا۔