واشنگٹن: ایران جنگ منصوبے سے زیادہ دیر تک چل سکتی ہے

اتوار کو اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن کا ہدف محض اس آبی راستے کو دوبارہ کھولنا نہیں بلکہ امریکہ ایران کے مبینہ وسیع تر اثرات کو عالمی توانائی کی قیمتوں پر ختم کرنا بھی  ہے۔

By
جنوبی اسرائیل کے شہر دیمونا میں، اس مقام پر جہاں ایرانی میزائل گرا تھا، فائر فائٹرز آگ بجھا رہے ہیں، 22 مارچ 2026۔ / AP

اامریکہ نے اسرائیل کو اطلاع دی ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ابتدائی اندازے سے زیادہ طویل ہوسکتی ہے، اورآبنائے  ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کارروائی  مزید  چند ہفتوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

اتوار کو اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق، واشنگٹن کا ہدف محض اس آبی راستے کو دوبارہ کھولنا نہیں بلکہ امریکہ ایران کے مبینہ وسیع تر اثرات کو عالمی توانائی کی قیمتوں پر ختم کرنا بھی  ہے۔

امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا  ہےکہ وہ ایک حکمتِ عملی میں تبدیلی چاہتے ہیں، چاہے اس میں وقت لگے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدا میں اشارہ کیا تھا کہ فوجی جارحیت، جو اب اپنے چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے، چار سے پانچ ہفتے طویل رہے گی اور انہوں نے بار بار کہا کہ کارروائیاں 'شیڈول سے آگے' چل رہی ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان ایفی ڈیفرن نے اتوار کو کہا کہ ایران اور لبنان کی حزب اللہ پر حملے 'چند مزید ہفتوں' تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

امریکی نیوز ویب  سائٹ  ایکسیوس نے الگ رپورٹ میں کہا ہےکہ واشنگٹن اور اتحادی دارالحکومت اس بات کی تیاری کر رہے  ہیں کہ امریکی مداخلت ممکنہ طور پر ستمبر تک جا سکتی ہے، چاہے تنازعہ کم شدت والے مرحلے میں منتقل ہو جائے۔

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے 28 فروری کو شروع ہوئے،  رپورٹ کے مطابق اس دورا ن کم از کم 1,300 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

ایران نے جواب میں ڈرون اور میزائل حملے کیے جن کے ہدف اسرائیل، اردن، عراق، اور وہ خلیجی ممالک تھے جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں۔