امریکی خصوصی آپریشنز فورسز مشرق وسطی پہنچ گئیں

اب مشرقِ وسطیٰ میں 50,000 سے زیادہ امریکی فوجی موجود ہیں، جو معمول کے مقابلے میں تقریباً 10,000 زیادہ ہیں،

By
سینکڑوں امریکی خصوصی آپریشنز اہلکار مشرق وسطیٰ میں تعینات کر دیے گئے ہیں۔ (فائل فوٹو) / AP

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، چند سو امریکی خصوصی  آپریشن فورسز مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکی ہیں، جو  کہ پہلے سے ہی موجود ہزاروں کی تعداد میں بحری پیادوں اور  آرمی پیراٹروپرز کے ساتھ شامل ہو گئی ہیں،  یہ  پیش رفت صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرنے کے دوران ہوئی ہے۔

حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اخبار کو بتایا کہ کمانڈوز، جن میں آرمی رینجرز اور بحریہ  خصوصی دستے  شامل ہیں، کو مخصوص مشنز سونپے نہیں گئے۔

انہیں خصوصی  بری دستوں کے  طور پر آبنائے  ہرمز کی حفاظت  کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے، جسے ایران نے عملی طور پر بند کر دیا ہے، یا وہ خارگ جزیرے کے خلاف مشن میں حصہ لے سکتے ہیں، جو خلیج میں ایران کا اہم تیل مرکز ہے۔

انہیں اسفہان کے جوہری مقام پر ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو ہدف بنانے والی کارروائیوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

اس  تعیناتی نے  حال ہی میں خطے میں پہنچنے والے تقریباً 2,500 بحری پیادوں اور  2,500 بحریہ کے اہلکاروں میں اضافہ کیا ہے۔

اب مشرقِ وسطیٰ میں 50,000 سے زیادہ امریکی فوجی موجود ہیں، جو معمول کے مقابلے میں تقریباً 10,000 زیادہ ہیں، جبکہ ٹرمپ تنازع میں اگلے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

کئی متبادل پر غور

حکام نے کہا کہ صدر  آبنائے  ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے اختیارات پر غور کر رہے ہیں، یہ وہ اہم سمندری راستہ ہے جس کے ذریعے عام طور پر دنیا کے تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے۔ جو کہ اسوقت بڑی حد تک بند ہے۔

خطے میں امریکی فوج کی تعداد عام طور پر تقریباً 40,000 ہوتی ہے، جو سعودی عرب، بحرین، عراق، شام، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت سمیت ممالک میں فوجی  اڈوں اور بحری جہازوں پر فرائض ادا کرتی  ہے۔

ہوائی بیڑے کی کیریئر جیرالڈ آر فورڈ، جس پر 4,500 افراد سوار تھے، تکنیکی مسائل کے بعد خطے سے واپس چلی گئی ہے اور اب یورپ میں موجود ہے۔

گزشتہ ہفتے، پینٹاگون نے آرمی کی 82 ویں ایربورن ڈویژن کے تقریباً 2,000 فوجیوں کو خطے میں بھیجنے کا حکم بھی دیا، البتہ ان کی مخصوص تعیناتی کا مقام ظاہر نہیں کیا گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیراٹروپرز بری ی کارروائیوں میں تعینات کیے جا سکتے ہیں، جن میں خارگ جزیرے سے متعلق ممکنہ مشنز بھی شامل ہیں۔

عسکری ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے رقبے اور آبادی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، 50,000 فوجی بھی ایران میں کسی وسیع  پیمانے کی زمینی کارروائی کے لیے ناکافی ہوں گے۔