ایران-امریکہ جنگ میں 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں:سینٹرل کمانڈ
امریکہ کے ایک فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
امریکہ کے ایک فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے مشرقِ وسطیٰ میں سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
،” ترجمان یو ایس سینٹرل کمانڈ کیپٹن ٹم ہاکنزنے کہا ہے کہ ان زخمیوں کی اکثریت معمولی نوعیت کی ہے اور 180 سے زائد اہلکار پہلے ہی ڈیوٹی پر واپس جا چکے ہیں ۔
ہاکنز نے مزید کہا کہ زخمی ہونے والے یہ اہلکار بحرین، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں تعینات تھے۔
پینٹاگون نے پہلے کہا تھا کہ 10 مارچ تک تقریباً 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ امریکی اور اسرائیلی افواج نے 28 فروری کو ایران پر جنگ شروع کی۔
تہران نے اس کا جواب میزائلوں اور ایک طرفہ حملہ آور ڈرونز کے ساتھ دیا، جو ان ممالک کو نشانہ بنا رہے ہیں جہاں امریکی افواج یا اڈے واقع ہیں۔
یہ زخمی اسی دوران ہوئے جب ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر مشرقِ وسطیٰ بھر میں امریکی ٹھکانوں اور دیگر اہداف پر وہ میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
امریکی حکام کے مطابق، حالیہ دنوں میں امریکی حملے خاص طور پر ایرانی میزائل لانچرز اور ڈرون اسٹوریج تنصیبات پر مرکوز رہے تاکہ تہران کی جوابی صلاحیت کو محدود کیا جا سکے۔
اس تنازع کے نتیجے میں امریکی اموات بھی ہوئیں جن میں اب تک 13 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
عراق میں ایک KC-135 ایندھن بھرتی طیارے کے حادثےمیں چھ مزید افراد ہلاک ہوئے۔
سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملوں میں سے ایک 28 فروری کو کویت کے پورٹ شعیبہ میں ہوا، جہاں حملہ آور ڈرون نے ایک حربی آپریشن سینٹر کو نشانہ بنایا۔
اس حملے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
بعد ازاں ایک اور فوجی سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر ایک حملے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے باعث انتقال کر گیا