ظہران ممدانی نے قرآن پر حلف اٹھاتے ہوئے امریکی تاریخ میں ایک پہلا کارنامہ سر انجام دے دیا

، اس تقریب میں استعمال ہونے والے قرآن کا نسخہ ممدانی کے دادا کا تھا اور ایک دوسرا نسخہ بلیک مصنف و مورخ آرٹورو شومبرگ کا تھا، جو نیویارک پبلک لائبریری نے فراہم کیا تھا۔

By
Zohran Mamdani, alongside his wife Rama Duwaji, on the day he is sworn in as mayor of New York City at Old City Hall Station. / Reuters

ظہران ممدانی نے سال نو کی شب  نیویارک سٹی کے میئر  کا حلف اٹھا لیا، وہ قرآن پر حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے مسلمان اور جنوبی ایشیائی شخص بن گئے جو امریکہ کے سب سے بڑے شہر کی قیادت کر رہے ہیں۔

تقریبِ حلف برداری اولڈ سٹی ہال سب وے اسٹیشن میں منعقد ہوئی، جو شہر کے ابتدائی اسٹیشنوں میں سے ایک تھا، 1904 میں تعمیر ہوا اور 1945 میں اسے استعمال کے لیے  بند کردیا گیا تھا۔

نیویارک اٹارنی جنرل لیتیشیا جیمز نے ممدانی کے اہل خانہ کے ساتھ مل کر حلف پڑھایا، جبکہ بدھ کی دوپہر کو ہونے والی عوامی تقریب سینئر سینیٹر برنی سینڈرز کی قیادت میں منعقد ہوگی۔

متعدد امریکی میڈیا اداروں کے مطابق، اس تقریب میں استعمال ہونے والے قرآن کا نسخہ ممدانی کے دادا کا تھا اور ایک دوسرا نسخہ بلیک مصنف و مورخ آرٹورو شومبرگ کا تھا، جو نیویارک پبلک لائبریری نے فراہم کیا تھا۔

ممدانی، جن کی عمر 34 سال ہے، نیویارک سٹی کے میئر کی حیثیت سے افریقہ میں پیدا ہونے والے پہلی شخصیت بھی ہیں۔ وہ بھارتی تارکینِ وطن والدین کے ہاں یوگنڈا میں پیدا ہوئے تھے۔

انہوں نے 4 نومبر کو  شہر کے میئر کا انتخاب جیتا اور سابق نیویارک گورنر اینڈریو کومو اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا کو شکست دے کر ڈیموکریٹک پارٹی کی ترقی پسند شاخ کے لیے تاریخی فتح حاصل کی۔

ایک جمہوری سوشلسٹ کے طور پر، ممدانی نے اپنی مہم میں مہنگائی کے مسئلے اور سماجی خدمات کے پھیلاؤ پر زور دیا، جس میں مفت بسیں، غریب  بچوں کی نگہداشت، شہر کے گروسری اسٹورز، کنٹرول شدہ رہائش میں توسیع، اور 2030 تک کم از کم اجرت کو فی گھنٹہ 30 ڈالر تک بڑھانے کے وعدے شامل تھے۔

ممدانی کے بیشتر پیش رو روایتی طور پر بائبل پر حلف اٹھا چکے ہیں، حالانکہ وفاقی، ریاستی اور شہر کے آئین کی پاسداری کے لیے حلف کے لیے کسی مخصوص مذہبی متن کے استعمال کی ضرورت نہیں ہے۔

اور اگرچہ انہوں نے اپنی مہم کے دوران خاص طور پر مہنگائی کے مسئلے پر زور دیا، ممدانی نے اپنےمذہب اسلام  کے بارے میں کھل کر بات کی۔ وہ مساجد سے تقریریں کرتے ہوئے ایسے ووٹرز کی بنیاد بنارہے تھے جن میں بہت سے پہلی بار ووٹ دینے والے جنوبی ایشیائی اور مسلمان شامل تھے۔

سادہ ڈیزائن

یہ واضح نہیں ہے کہ آرٹورو شومبرگ، ایک سیاہ فام پورتو ریکن مورخ جن کے مجموعے نے افریقی نسب افراد کے عالمی شراکتوں کو دستاویزی شکل دی، کے پاس قرآن کیسے آیا، مگر ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے اس دلچسپی کا پتا چلتا ہے جو انہوں نے امریکہ اور افریقہ میں اسلام اور سیاہ فام  ثقافتوں کے تاریخی تعلقات میں لی۔

شاہانہ یا اشرافیہ سے منسلک نفیس مذہبی نسخوں کے برعکس، وہ قرآن جو ممدانی نے استعمال کیا نسبتاً سادہ ڈیزائن کا تھا۔ اس کی جلد گہری سرخ رنگت کی ہے، اس پر ایک سادہ پھول جیسا نقش ہے اور یہ سیاہ اور سرخ سیاہی میں قلم بند کیا گیا  ہے۔

یہ خط عام اور باآسانی پڑھے جا سکنے والے حروف تہجی پر مبنی  ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسے رسوماتی نمائش کے بجائے روزمرہ استعمال کے لیے بنایا گیا تھا۔

چونکہ نسخہ تاریخ یا دستخط نہیں رکھتا، اس لیے ماہرین نے اس کی جلد اور خط کی بناوٹ کی بنیاد پر یہ اندازہ لگایا کہ یہ عموماً اٹھارویں صدی کے آخر یا انیسویں صدی کے اوائل میں، سلطنت عثمانیہ کے دور میں تیار ہوا ہوگا، اس خطے میں جو آج شام، لبنان، فلسطین اور اردن پر مشتمل ہے۔

ایک مسلمان جمہوری سوشلسٹ کے تیز رفتار عروج نے اسلاموفوبک بیانات کا ایک سلسلہ بھی جنم دیا، جو اس دوڑ پر قومی توجہ کے باعث تقویت اختیار کر گئے۔

الیکشن سے چند روز قبل ایک جذباتی خطاب میں ممدانی نے کہا کہ دشمنی نے ان کے عزم کو مزید مضبوط کیا کہ وہ اپنے ایمان کے بارے میں کھلے رہیں۔ انہوں نے کہا: "میں وہ نہیں بدلوں گا جو میں ہوں، جس طرح میں کھاتا ہوں، یا اس ایمان کو جو مجھے اپنے ہونے پر فخر ہے۔ میں اب اپنے آپ کو سائے میں تلاش نہیں کروں گا۔ میں خود کو روشنی میں پاؤں گا۔"

قدامت پسندانہ ردِعمل

قرآن کے استعمال کے فیصلے پر بعض قدامت پسند حلقوں نے تازہ تنقید کی ہے۔ الاباما کے سینیٹر ٹومی ٹبر ویل نے سوشل میڈیا پر ایک خبر کے جواب میں لکھا، "دشمن دروازوں کے اندر ہے۔"

امریکی کونسل آن اسلامک ریلیشنز، ایک شہری حقوقی گروپ، نے ماضی کے بیانات کی بنیاد پر ٹبر ویل کو مسلم مخالف انتہا پسند قرار دیا ہے۔

ایسا ردِعمل نیا نہیں ہے۔ 2006 میں کانگریس کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان کیتھ ایلیسن کو بھی جب انہوں نے رسمی حلف کے لیے قرآن استعمال کیا تو قدامت پسند حلقوں کی طرف سے مذمت کا سامنا کرنا پڑا۔

اگرچہ حلف لینے کے لیے بائبل کے استعمال کو ایک عام روایت سمجھا جاتا ہے جو اسے قوانین کی طرح دکھاتی ہے، لیکن کوئی قانون ایسا نہیں کہ عہدیداروں کو حلف لینے کے لیے کسی خاص مذہبی متن کے استعمال کا پابند کرے۔

سابق امریکی صدر تھیوڈور روزویلٹ نے حلف لیتے وقت بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا تھا۔ حتیٰ کہ موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اپنی حلف برداری میں بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا تھا۔

ممدانی کی حلف برداری کے بعد، قرآن کو عوامی نمائش کے لیے نیویارک پبلک لائبریری میں رکھا جائے گا۔