کارنی نے ترکیہ کو کینیڈا کے لیے "حیاتی شراکت دار" قرار دے دیا
کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے ترکیہ کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط کرنے کے مواقع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا اظہار کیا ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ترکیہ کو نیٹو میں کینیڈا کے لیے 'اہم' حلیف قرار دیا اور خاص طور پر تجارت اور صنعت میں دو طرفہ تعلقات کو بڑھانے کے واضح امکانات کی نشاندہی کی۔
کارنی نے جمعرات کو واون میں ایک نیوز کانفرنس میں صحافیوں سے کہا کہ ''میں اس میں چند باتیں مزید واضح کرنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ ہے کہ ترکیہ نیٹو کا ایک اہم شراکت دار ہے اور ایک ایسے خطے میں جو بہت اہم اور بعض اوقات چیلنجنگ ہے۔''
انہوں نے اقتصادی تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ''اس کے علاوہ بے پناہ مواقع ہیں۔ ہمارے پاس ترکیہ کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو گہرا کرنے کے متعدد مواقع ہیں،'' میں نے گزشتہ سال ستمبر میں نیو یارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بات چیت شروع کی تھی اور اب میں اس کی کو آگے بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا تعاون ''دفاعی اور جوہری معاملات '' تک بڑھ سکتا ہے۔
کارنی نے کہا کہ " ترکیہ عالمی سطح پر پیداوار، بشمول جدید پیداوار ، نمایاں ممالک میں سے ایک ہے،ایسے شعبے ہیں جن میں ہم بلا شبہ شرکت کر سکتے ہیں''۔
نیوز کانفرنس کے دوران، کارنی نے کینیڈا کے موٹر سازی شعبے کے لیے ''ایک نئے، زیادہ پرعزم اور خودمختار راستے'' کابھی اعلان کیا اور ایک قومی موٹر ساز منصوبہ جاری کیا جس میں صفر اخراج گاڑیوں کے فروغ کے لیے 2.3 بلین ڈالر کی نئی خرید و لیز مراعات شامل ہیں۔
اس تبدیلی کے حصے کے طور پر حکومت ، گزشتہ الیکٹرک وہیکل فروخت کے مینڈیٹ کو منسوخ کر رہی ہے اور اسے 2027 سے 2032 تک کے ماڈلزکے لیے سخت گرین ہاؤس گیس اخراج معیار سے بدل رہی ہے۔
کارنی نے مزید کہا کہ ''ہم اپنے (گرین ہاؤس گیس) اخراج کے معیار کو دوگنا سخت کر رہے ہیں اور صنعت کو یہ لچک دے رہے ہیں کہ وہ اسے کیسے حاصل کرتی ہے۔