لبنان میں بری کاروائی کا امکان،اسرائیل کافوجی نفری کی تعداد بڑھانے پر غور

سرائیل ممکنہ طور پر لبنان میں زمینی حملے کی تیاری کے حصّے کے طور پر جلد ہی 450,000 تک ریزرو فوجیوں کی متحرک سازی کی منظوری دے سکتا ہے

By
لبنان-اسرائیل / Reuters

اسرائیل ممکنہ طور پر لبنان میں زمینی حملے کی تیاری کے حصّے کے طور پر جلد ہی 450,000 تک ریزرو فوجیوں کی متحرک سازی کی منظوری دے سکتا ہے۔

اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے KAN نے کہا ہے کہ اس تعداد میں اہلکاروں کی نق و حرکت   جنگ کی تیاریوں  سے  لبنان میں زمینی دراندازی  کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ تجویز قریبی وقت میں منظوری کے لیے وزراء اور کنیسٹ کی خارجہ و دفاع کمیٹی کے سامنے پیش کی جانے کی توقع ہے۔

کان  نے کہا کہ جنوری میں جاری حکومت کے فیصلے کی بنیاد پر اب تک ریزرو فوجیوں کی نقل و حرکت  کی مجاز حد تقریباً 260,000 فوجیوں پر ہے یعنی نئی درخواست موجودہ حد کو نمایاں طور پر بڑھا دے گی۔

یہ میڈیا رپورٹ لبنان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے، جہاں اسرائیلی فوج اپنی فوجی جارحیت بڑھانے کے اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے، جس میں زمینی دراندازی کے آغاز کا امکان بھی شامل ہے۔

رپورٹ نے یہ بھی کہا کہ حال ہی میں اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جن میں دریائے لیتانی پر ایک پل بھی شامل تھا، اور دعویٰ کیا گیا کہ یہ پل حزبِ اللہ کے جنگجوؤں کے گزرنے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔

اس نے مزید کہا کہ اسرائیل شمالی سرحد کے حالات کے بارے میں امریکہ سے مشاورت کے ساتھ جنوبی لبنان میں بفر زون کو بڑھانے پر بھی غور کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ  2مارچ کو حزبِ اللہ نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوجی مقامات کو نشانہ بنانا شروع کیاتھا