ایران نےجوہری منصوبے پر دوبارہ کام کیا تو حملہ کردیں گے:اسرائیل

کاٹز: غزہ اور یمن کے دو کھلے محاذ ہیں جن کو ایران، لبنان اور شام کی طرح ایک مضبوط جارحانہ پالیسی کے تحت فیصلہ کن طور پر حل کیا جانا چاہیے

/ Reuters

ماریو کے مطابق آرمی چیف آف اسٹاف ایال ضمیر اور سینئر کمانڈروں کے ہمراہ سیکیورٹی جائزہ کے دوران کاٹز نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کی تجدید کا امکان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسا منصوبہ تیار کرنا ضروری ہے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ ایران اپنے جوہری اور میزائل منصوبوں  پر  واپس نہ آئے۔

کاٹز نے خطے میں دیگر اسرائیلی جارحیتوں کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ غزہ اور یمن کے دو کھلے محاذ ہیں جن کو ایران، لبنان اور شام کی طرح ایک مضبوط جارحانہ پالیسی کے تحت فیصلہ کن طور پر حل کیا جانا چاہئے۔

ان کا یہ بیان جون میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ایک مختصر لیکن شدید دور کے بعد سامنے آیا ہے۔

13جون کو اسرائیل نے امریکہ کی حمایت سے ایران کے خلاف 12 روزہ بلا اشتعال جارحیت کا آغاز کیا جس میں فوجی تنصیبات، جوہری تنصیبات، شہریوں، اعلیٰ افسران اور سائنسدانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

 اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی فوجی اور خفیہ  تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

امریکہ کی ثالثی میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کا اعلان 23 جون کو کیا گیا تھا۔