ایران: تین امریکی ہوائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے اور نیتن یاہو کو دھمکی

ایران کے انقلابی گارڈز کی نیتن یاہو کو دھمکی: اگر ابھی وہ زندہ ہیں تو ہم انہیں نشانہ بنانا جاری رکھیں گے

By
امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازعے کے دوران، اسرائیل کی جانب سے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کے باعث تل ابیب کے رات کے آسمان پر روشنی کی لکیریں چھا گئیں۔ / Reuters

ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے کہا ہے کہ اس نے علاقے میں تین امریکی فضائی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونوں سے نشانہ بنایاہے۔

ایران کی  نیم سرکاری  نیوز ایجنسی فارس  کے مطابق، IRGC نےآج بروز اتوار جاری کردہ  بیان میں کہا ہے کہ "ہم نے اربیل کے ال حریر فضائی اڈے پر 'امریکی فوج کے اجتماع کے مرکز' کو ہدف بنایا اور  کویت میں  علی ال سالم اور عریفجان اڈوں کو 'قوی ایرانی میزائلوں اور ڈرونوں' کے ذریعے تباہ کر دیا  ہے"۔

بیان میں کہا گیا  ہےکہ یہ حملے ایرانی صنعتی علاقوں  میں مزدوروں کے قتل کا بدلہ اور  'آپریشن ٹرو پرامس 4' کی 52 ویں لہر کا حصہ تھے ۔

بیان میں IRGC نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی دھمکی دی اور کہا  ہےکہ اگر وہ 'ابھی زندہ ہیں تو ہم ان کا پیچھا جاری رکھیں گے اور پوری طاقت سے انہیں قتل کریں گے"۔

اس سے قبل، اسرائیل وزارتِ اعظمیٰ دفتر نے اناطولیہ ایجنسی  کو بتایا تھا کہ سوشل میڈیا پر نیتن یاہو کی موت سے متعلق گردش کرتے  دعوے 'جعلی خبریں' ہیں اور وزیرِ اعظم 'ٹھیک ہیں'۔

اسرائیلی چینل 12 کے مطابق اسرائیل کے شہر ہولون پر ایران کے حالیہ  بیلسٹک میزائل حملے میں دو افراد معمولی زخمی ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ حملوں  کے بعد سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ ان حملوں میں ایران کے سابق دینی لیڈر علی خامنہ ای سمیت کم از کم 1,300 افراد ہلاک ہو گئےہیں۔

جوابی کاروائی میں تہران نے اسرائیل اوراردن و عراق سمیت امریکی فوجی اثاثوں والے خلیجی ممالک پر  ڈرون اور میزائل حملے کئے ہیں۔حملوں میں  جانی و مالی نقصان کے علاوہ  بنیادی  شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور عالمی منڈیوں اور فضائی سفروں میں خلل پڑا ہے۔