دنیا
4 منٹ پڑھنے
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ
کیوبا کے قومی بجلی نظام میں خرابی کے نتیجے میں پورا ملک بجلی سے محروم ہو گیا
کیوبا میں ملک گیر لوڈ شیڈنگ
کیوبا کا قومی بجلی کا گرڈ جولائی میں تیسری بار فیل ہو گیا / Reuters

کیوبا کے حکام نے کہا ہے کہ منگل کے روز قومی بجلی کے نظام (SEN) میں ایک اور ملک گیر بلیک آؤٹ ہوا، جس کے نتیجے میں پورا ملک بجلی سے محروم ہو گیا۔ یہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران تیسرا ملک گیر بجلی کا تعطل ہے، جبکہ امریکی تیل پابندیوں کے باعث کیوبا کا بجلی کا نظام مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ دھمکی دیے جانے کے بعد کہ جو بھی ملک کیوبا کو تیل فروخت کرے گا یا فراہم کرے گا، اس پر امریکہ اضافی محصولات عائد کرے گا، کیوبا میں ایندھن کی فراہمی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ اس صورتحال نے پہلے سے جاری معاشی اور مالی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ عوامی نقل و حمل بڑی حد تک معطل ہو چکی ہے، جبکہ دسیوں ہزار طبی آپریشن منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

کیوبا اپنی ضرورت کے ایندھن کا صرف تقریباً 40 فیصد خود پیدا کرتا ہے اور اضافی درآمدات کو یقینی بنانے کے لیے اب تک کوئی مؤثر حل تلاش نہیں کر سکا۔

بجلی کے نظام کی بحالی کا عمل جاری

سرکاری ادارے الیکٹرک یونین نے بتایا کہ ملک کے مشرقی صوبے ہولگین میں بجلی پیدا کرنے والے ایک یونٹ میں خرابی کے باعث "فریکوئنسی میں اچانک تبدیلی" آئی، جس کے نتیجے میں دوپہر کے وقت پورے ملک میں بجلی منقطع ہو گئی۔

توانائی و معدنیات کی وزارت اور الیکٹرک یونین نے اعلان کیا کہ مرمت کے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ حکام اسپتالوں اور خوراک کی تیاری کے مراکز سمیت ترجیحی تنصیبات کو بجلی فراہم کرنے کے لیے "مائیکرو آئی لینڈز" کہلانے والے الگ تھلگ بجلی کے نیٹ ورک قائم کر رہے ہیں، جنہیں بعد میں مرکزی نظام سے دوبارہ جوڑا جائے گا۔

دوپہر تک دارالحکومت ہوانا کے بعض علاقوں میں بجلی بحال ہو گئی، جبکہ حکام کے مطابق شہر کے تقریباً 4 فیصد حصے کو دوبارہ بجلی فراہم کر دی گئی۔

اسی طرح گوانتانامو اور سینفیوگوس میں اسپتالوں کو بجلی کی فراہمی بحال ہونا شروع ہو گئی، جبکہ ماتانزاس نے اطلاع دی کہ شہر کے تاریخی مرکز میں بھی بجلی واپس آ گئی ہے۔

مسلسل بلیک آؤٹ سے معمولاتِ زندگی متاثر

یہ تازہ بلیک آؤٹ پیر اور جمعہ کو ہونے والے دو ملک گیر بجلی تعطل کے بعد پیش آیا، جن کے باعث نو ملین سے زائد کیوبن شہری بجلی سے محروم ہو گئے تھے۔ اس سے قبل مارچ میں بھی جزیرے کو دو ملک گیر اور کئی علاقائی بجلی کے تعطل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بار بار ہونے والی بجلی کی بندش کے باعث ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوا، کام کے اوقات کم کرنا پڑے، پروازیں معطل ہوئیں اور سرکاری صحت کی خدمات بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ اس کے علاوہ کھانا پکانے، پانی کی فراہمی، انٹرنیٹ تک رسائی اور ٹیلی فون سروسز جیسی روزمرہ کی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔

ہوانا کی سڑکوں پر موجود متعدد شہریوں نے کہا کہ اب وہ بجلی کی بندش پر حیران نہیں ہوتے۔

69 سالہ ریٹیل ملازم روبرٹو لیانا نے کہا، "یہ بجلی کی بندشیں اب کیوبا میں معمول بن چکی ہیں۔ اگر کچھ اور ہوتا تو شاید حیرت ہوتی۔"

دوسرے شہریوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے ان حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا سیکھ لیا ہے۔ دو بچوں کی 25 سالہ ماں سائلی اگیلیرا نے کہا، "ہم حالات کے مطابق جو کچھ ممکن ہو، وہی کرتے ہیں۔"

بہت سے گھروں نے بجلی کی بندش سے نمٹنے کے لیے شمسی توانائی کے پینل اور پورٹیبل بیٹری سسٹم نصب کر لیے ہیں، جبکہ فوٹو وولٹائک توانائی سے چلنے والی برقی موٹر سائیکلیں اور تین پہیوں والی گاڑیاں نقل و حمل کا عام ذریعہ بنتی جا رہی ہیں۔

دریافت کیجیے
غزہ میں فلسطینیوں کی جانوں کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے: اقوام متحدہ
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں 7 افراد ہلاک، علاقے میں حملوں میں شدت آئی ہے
اسرائیل نے تقریباً 650 مکانات پر مشتمل ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع دیا
روس کا کیف پر حملہ،5 افراد ہلاک،متعدد زخمی
عراق نے  60 لاکھ اسلحے کے اندراج کے لیے ڈیٹا بیس تیار کرلیا
"ڈرون میزائل دھماکہ " مولدووا نے روس سے اپنا سفیر واپس بلالیا
فلپائن میں بارشوں اور لرزشِ اراضی سے 12 افراد ہلاک، 8 لاپتہ
کویت کی طرف سے پاکستان کو مبارکباد
چین: ڈولفن طوفان کے باعث 1.5 ملین سے زائد افراد بے گھر
ایرانی وزیر خارجہ: "ہم فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کر رہے"
ہندوستان کے ریاست آسام میں سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی
امریکہ اور کینیڈا میں تیز رفتار جنگلاتی آگ، متاثرہ علاقوں کے باسی انخلاء پر مجبور
میٹا کو ایک اور مقدّمے کا سامنا
سعودی عرب،16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
نگاساکی ایٹم بم کی 81 ویں برسی