روسی اثاثوں کے استعمال کی تجویز غیر قانونی ہے: روس مرکزی بینک
روسی اثاثے استعمال کرنے پر مبنی تجاویز غیر قانونی ہیں۔ ہم، اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے، تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں: روس مرکزی بینک
روس کے مرکزی بینک نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی شائع کردہ اور روسی اثاثے استعمال کرنے پر مبنی تجاویز غیر قانونی ہیں اور ہم، اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے، تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
بینک نے بروز جمعہ جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "روسی اثاثوں کے براہِ راست یا بالواسطہ استعمال سے متعلق طریقۂ ہائے کار اور اس موضوع پر اٹھائے گئے تمام بین الاقوامی اقدامات قانون کے منافی ہیں اور اثاثہ جات کی خودمختاری استثنایت کی خلاف ورزی ہیں"۔
بینک نے یورپی کمیشن کے، 3 دسمبر کو شائع کردہ اور 2026 تا 2027 میں یوکرین کی مالی ضروریات میں معاونت کے لیے دو طریقے پیش کرنے پر مبنی، بیان کا حوالہ دیا ہے۔
بیان میں پیش کئے گئے ایک حل میں کہا گیا ہے کہ روس مرکزی بینک کے منجمد اثاثے' یورپی مالیاتی اداروں ' کی تحویل میں ہیں لہٰذا یورپی کمیشن، ان مالیاتی اداروں کے حساب میں موجود نقد رقوم کو اُدھار لے کر، یوکرین کو ہرجانہ قرضہ دے سکتا ہے۔
روسی اثاثوں کی اکثریت والے ملک بیلجیم نے یورپی منصوبے کو مسترد کر دیا اور کہا ہے کہ یہ منصوبہ بڑے پیمانے کے مالیاتی اور قانونی خطرات کھڑے کر سکتا ہے۔
واضح رہے کہ روسی اثاثے برسلز کی مالیاتی تبادلہ تنظیم 'یوروکلیئر' کی تحویل میں ہیں اور بیلجیم کو خدشہ ہے کہ یورو کلیئر کے روسی اثاثوں کے استعمال پر اعتراض کرنے یا اس کاروائی کے بیلجیئم کی ساکھ یا تجارت کو نقصان پہنچانے کی صورت میں قانونی کارروائی شروع کروائی جا سکتی ہے۔
روسی عہدیداروں نے بارہا کہا ہے کہ منجمد اثاثوں کے استعمال کی کوشش کا 'سخت ترین ردِعمل' دیا جائے گا۔
روس مرکزی بینک نے کہا ہے کہ "ایسے منصوبوں کے نفاذ کو قومی عدالتوں، غیر ملکی حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی عدالتوں ، ثالثی عدالتوں اور دیگر بین الاقوامی عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا اور اس کے بعد اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک میں عدالتی فیصلوں کا نفاذ کیا جائے گا۔