اسرائیل کا 'توسیعی منصوبہ' مشرق وسطی اور ایران کو کمزور کرنے کا ہدف ہے، عراقچی

عراقچی  نے قطر میں الجزیرہ فورم کانفرنس سے خطاب کیا۔ مگر انہوں نے جمعے کو امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا ذکر نہیں کیا۔

By
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی 7 فروری 2026 کو دوحہ میں الجزیرہ فورم کے 17ویں ایڈیشن کے دوران خطاب کر رہے ہیں۔ / AFP

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ہفتہ کو اُس 'غلبہ پسندی کے نظریے' پر تنقید کی جس کے تحت اسرائیل کو اپنا عسکری ساز و سامان بڑھانے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ خطے کے دیگر ممالک پر ہتھیار ڈالنے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

ان کے بیانات واشنگٹن کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے ایک روز بعد سامنے آئے، جبکہ پچھلی بات چیت اس وقت بگڑ گئی تھی جب اسرائیل نے گزشتہ جون میں ایران کے خلاف ایک بمباری مہم شروع کی جس نے بارہ روزہ جنگ کو جنم دیا۔

عراقچی  نے قطر میں الجزیرہ فورم کانفرنس سے خطاب کیا۔ مگر انہوں نے جمعے کو امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا ذکر نہیں کیا۔

عراقچی نے کہا کہ 'اسرائیل کا توسیع پسندانہ منصوبہ تقاضا کرتا ہے کہ پڑوسی ممالک عسکری، تکنیکی، اقتصادی اور سماجی طور پر کمزور کیے جائیں۔'

انہوں نے مزید کہا'اس منصوبے کے تحت، اسرائیل کو اپنی عسکری صلاحیت بغیر کسی حد کے بڑھانے کی آزادی حاصل ہے۔جبکہ دیگر ممالک سے کہا جاتا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔ بعض پر دفاعی صلاحیت کم کرنے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ بعض کو سائنسی ترقی کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے۔'

'یہ غلبہ پسندی کا نظریہ ہے۔'

امریکہ-ایران بات چیت

بارہ روزہ جنگ کے دوران، اسرائیل نے سینئر ایرانی فوجی حکام، جوہری سائنسدانوں اور تنصیبات کے علاوہ رہائشی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ بعد ازاں امریکہ نے اہم جوہری تنصیبات پر  حملے کیے۔

اِس وقت ایران نے اسرائیل پر ڈراون اور میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کے سب سے بڑے اڈے جو قطر میں واقع ہے کو بھی نشانہ بنایا۔

جمعے کو، عراقچی نے مسقط میں امریکہ کے مشرقِ وسطیٰ نمائندے اسٹیو وِٹکوف کے ساتھ بالواسطہ جوہری مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت کی۔

اس اعلیٰ ایرانی سفارت کار نے بعد ازاں ماحول کو 'بہت مثبت' قرار دیا، جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات بڑے مفید  تھے، اور دونوں فریق مزید مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہو گئے۔

یہ مذاکرات واشنگٹن کی جانب سے کی گئی دھمکیوں اور ایران کے حکومت مخالف احتجاجات پر حالیہ مہلک کریک ڈاؤن کے بعد علاقے میں ایک طیارہ بردار بیڑے کی تعیناتی کے بعد ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کی جنگجو گروپوں کی حمایت کو زیرِ بحث لانے کی کوشش کی ہے — ایسے مسائل جنہیں اسرائیل نے مذاکرات میں شامل کرنے پر زور دیا ہے۔

تہران نے بارہا مذاکرات کے دائرے کو جوہری مسئلے سے آگے بڑھانے سے انکار کیا ہے۔