ایران نے فضائی حدود دوبارہ کھول دی

فلائٹ ریڈار24نے  تصدیق کی کہ ایرانی فضائی حدود کو محدود کرنے والا نوٹس ٹو ایئر مشنز (NOTAM) ختم ہو چکا ہے اور متعدد پروازیں ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوتی دیکھی گئی ہیں

By
ایران

ایران کی فضائی حدود  زیادہ تر پروازوں کی عارضی بندش کے بعد دوبارہ کھول دی گئی  ہے۔

فلائٹ ریڈار24نے  تصدیق کی کہ ایرانی فضائی حدود کو محدود کرنے والا نوٹس ٹو ایئر مشنز (NOTAM) ختم ہو چکا ہے اور متعدد پروازیں ملک کی فضائی حدود میں داخل ہوتی دیکھی گئی ہیں۔

ایران نے عارضی طور پر اپنی فضائی حدود کو تمام پروازوں کے لیے بند کر دیا تھا ۔

ابتدائی  اطلاع  میں کہا گیا تھا کہ تہران کی فضائی حدود 15 جنوری تک بند رہے گی ۔

یہ اقدام ایران میں حکومت مخالف احتجاج اور بڑھتی ہوئی بین الاقوامی نگرانی کے درمیان سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ ایران میں مظاہرین کی پھانسیوں کو روکا جا رہا ہے جبکہ انہوں نے خبردار کیا کہ واشنگٹن حالات پر گہری نظر رکھے گا۔

ٹرمپ نے بار بار مظاہرین کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر پھانسیوں کا عمل جاری رہا تو امریکہ "بہت سخت اقدامات" کر سکتا ہے۔

جی 7 کے وزرائے خارجہ نے مظاہرین کے خلاف قصداً تشدد کے استعمال کی مذمت کی ہے، حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور انسانی حقوق کا احترام کریں ۔

دریں اثنا، ایرانی حکام نے امریکہ اور اسرائیل پر احتجاج سے جڑی  بدامنی اور دہشت گردی کی حمایت کرنے کا الزام لگایا ہے  جسے مغرب نے مسترد کیا ہے۔

ایرانی حکام نے سرکاری ہلاکتوں کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے البتہ  انسانی  حقوق کی بعض  تنظیموں  نے  دسمبر کے آخر میں احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک  ہزاروں افراد  کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔