ایران کی امریکی فوجی اڈوں اور طیارہ بردار جہازوں پر جوابی حملے کی دھمکی

اگر امریکیوں کی طرف سے ایسی کوئی غلطی ہوئی تو یقیناً وہ اسی طرح نتیجہ خیز نہیں ہوگی جس طرح ٹرمپ سوچ رہے ہیں، ایرانی اہلکار

By
ایران کا کہنا ہے کہ امریکی اڈے اس کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی زد میں ہیں۔ [فائل] / AP

ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں فوری طور پر امریکی فوجی اڈوں اور جہاز بردار بیڑوں کو نشانہ بنایا جائے گا، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کے انتباہات  اور یورپی یونین کی ایران کے پاسدارنِ  انقلابی گارڈ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد تناؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایک ایرانی فوجی ترجمان نے جمعرات کو کہا گزشتہ سال مختصر جھڑپوں کے دوران دیکھے  گئے محدود ردِ عمل کے بر عکس ،تہران کا کسی بھی امریکی اقدام کے جواب میں ردِ عمل فیصلہ کن اور فوری ہوگا۔بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو میں کہا کہ امریکی جہاز بردار بیڑوں میں ' نمایاں کمزوریاں'  موجودہیں اور خلیج کے خطے میں امریکی اڈے 'ہمارے درمیانی فاصلے  کے میزائلوں کی پہنچ میں' ہیں۔

اکرمینیا نے کہا، 'اگر امریکیوں کی طرف سے ایسی کوئی غلطی ہوئی تو یقیناً وہ اسی طرح نتیجہ خیز نہیں ہوگی جس طرح ٹرمپ سوچ رہے ہیں،' ا نہوں نے  تیز اور محدود آپریشن کے تصور کو مسترد کیا۔

علاقائی سفارت کاری

قطر نیوز ایجنسی کے مطابق، علاقائی سفارت کاری جاری رہی تو امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے ایرانی صدر مسعود پزیشکیاں سے ٹیلی فون پر رابطہ قائم کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

دریں اثنا، یورپی یونین نے حالیہ وسیع  پیمانے پر احتجاجات کے  برخلاف سخت کریک ڈاؤن میں پاسدارانِ انقلاب کی سخت گیر  کاروائیوں کے جواز میں اسے  بلیک لسٹ کر کے تہران پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

ایران نے اس اقدام کی مذمت کی، اسے 'بے منطقی اور غیر ذمہ دار' قرار دیا اور یورپی یونین پر الزام لگایا کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی اطاعت میں کام کر رہی ہے۔

ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ تہران کے لیے اپنے جوہری پروگرام کے معاملے پر کسی معاہدے تک پہنچنے کی 'مہلت'  ختم ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ہم مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ایک امریکی بحری آپریشن گروپ  کے خلاف 'جوابی کارروائی' کے لیے تیار ہیں ۔