ایران: امریکہ نے 10 نکاتی امن تجویز کو 'اصولی طور پر' قبول کر لیا ہے
تجویز میں جارحانہ رویے کے خلاف ضمانتیں، آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے دوام اور ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق کو تسلیم کرنا شامل ہے: ایران قومی سلامتی کونسل
ایران نے کہا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کے لیے پیش کردہ 10 نکاتی تجویز کو "اصولی طور پر" تسلیم کر لیا ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا "اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ" (IRIB) کے مطابق، ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے بدھ کی صبح جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ یہ تجویز ایک وسیع تر معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکراتی ڈھانچے کے طور پر کام کرے گی۔
IRIB نے اعلامیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس تجویز میں جارحانہ رویے کے خلاف ضمانتیں، آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے دوام اور ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق کو تسلیم کرنا شامل ہے۔
منصوبے میں امریکہ کی جانب سے تمام بنیادی اور ثانوی پابندیوں کے خاتمے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی ایران مخالف قراردادوں کی منسوخی، تہران کو ہرجانے کی ادائیگی اور خطے سے امریکی افواج کے انخلاء کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
مذاکراتی فریم ورک
کونسل نے اس بات پر زور دیا ہےکہ حتمی معاہدے کا دارومدار ایرانی شرائط کی تکمیل اور تفصیلات کو حتمی شکل دیئے جانے پر ہے۔ مذاکراتی مدت کے دوران آبنائے ہرمز سے محفوظ سیروسفر کی فراہمی ایران مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگ شکل میں یقینی بنائی جائے گی۔
توقع ہے کہ یہ مذاکرات جمعہ کے روز پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور 2 ہفتوں تک جاری رہیں گے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل تہران کی تجویز کو مذاکرات کے لئے ایک "قابل عمل بنیاد" قرار دیا اور کہا تھا کہ واشنگٹن اس مدت کے دوران ایران پر حملے بند رکھے گا۔
ایران کے سرکاری میڈیا "اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ" (IRIB) کے مطابق ، اس تجویز میں امریکی پابندیوں کے خاتمے کے علاوہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور IAEA کے بورڈ آف گورنرز کے ایران مخالف اقدامات کے خاتمے اور معاوضے کی ادائیگی کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔
اس منصوبے کے تحت خطے سے امریکی جنگی افواج کا انخلاء اور لبنان سمیت تمام محاذوں پر حملوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ ایرانی میڈیا میں شائع ہونے والی اضافی تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ یہ تجویز جنگ کے خاتمے کے لیے ایک وسیع تر فریم ورک فراہم کرتی ہے۔
نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق پاکستانی ثالثوں کی وساطت سے پہنچایا گیا یہ منصوبہ مستقل حل کی تلاش کی صلاحیت اور تنازعے کے خاتمے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل کی حیثیت رکھتا ہے۔
تجویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بحری ٹریفک کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا تاہم فی جہاز 20 لاکھ ڈالر ٹول وصول کیا جائے گا اور یہ رقم ایران اور عمان کے درمیان تقسیم ہوگی۔
ایران براہِ راست ہرجانے کے بجائے، ٹرانزٹ آمدنی سے حاصل ہونے والے اپنے حصے کو امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کی تعمیرِ نو کے لیے استعمال کرے گا۔