امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں اختلاف کے باعث کچھ نیٹو ممالک سے فوجیں ہٹا رہا ہے: رپورٹ
یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کتنے آگے پہنچ چکے ہیں یا منصوبہ نافذ ہونے کی صورت میں کن مخصوص ممالک پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
اے بی سی نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایسے بعض نیٹو حلیفوں سے امریکی فوج کو ہٹانے یا ان کی جگہ تبدیل کرنے پر غور کر رہی ہے جنہیں ایران کی جنگ کے دوران غیر معاون سمجھا گیا۔
رپورٹ میں جمعرات کو ایک امریکی انتظامیہ کے عہدیدار نے کہا کہ امریکہ بعض نیٹو رکن ممالک میں اپنی عسکری موجودگی کم کرنے یا منتقل کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہا ہے، جنہیں حالیہ ایران کے ساتھ مسلح تنازع کے دوران اس کی کارروائیوں کی حمایت میں سست یا غیررضامندتصور کیا گیا۔
رپورٹ نے مزید کہا کہ عہدیدار نے کہا کہ یہ تجویز ایسی ملکوں سے امریکی افواج کو منتقل کرنے سے متعلق ہو گی جنہیں کم معاون سمجھا جاتا ہے، اُن ممالک کی طرف جہاں تنازع کے دوران زیادہ مدد فراہم کی گئی،
یہ واضح نہیں کہ مذاکرات کتنے آگے پہنچ چکے ہیں یا منصوبہ نافذ ہونے کی صورت میں کن مخصوص ممالک پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
اس غور و خوض کا تعلق یورپ میں مشترکہ فوجی اڈوں کے استعمال پر تنازع کے دوران پابندیوں کے سبب سینئر امریکی حکام کی تنقید سے ہے۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے سوال اٹھایا کہ اگر آپریشنل رسائی محدود ہے تو حلیف ملکوں میں فوجی تعیناتیاں برقرار رکھنے کی کیا منطق ہے۔
حلیفوں کی حمایت کا مسئلہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُوٹے نے بھی اٹھایا، جنہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ رکن ممالک جزوی طور پر جنگ کی غیر متوقع نوعیت کی وجہ سے ابتدا میں ردِ عمل میں سست رہے ۔ تاہم، انہوں نے زور دیا کہ یورپی حلیفوں نے بالآخر امریکی پاور پروجیکشن کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
رُوٹ نے نیٹو کی وسیع تر اسٹریٹجک اہمیت پر بھی زور دیا اور اس اتحاد کو نہ صرف یورپی سلامتی بلکہ امریکہ کے دفاع کے لیے بھی لازمی قرار دیا۔ نیٹو یقینی طور پر یورپیوں کا تحفظ کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی ریاستِ متحدہ امریکہ کا بھی تحفظ کرتا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کے تنازع کے دوران نیٹو کے ردِ عمل پر بار بار اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ بدھ کو نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹ سے ملاقات کے بعد ایک ٹروتھ سوشل پوسٹ میں انہوں نے لکھا: "نیٹو وہ وقت ہمارے ساتھ نہیں تھا جب ہمیں ان کی ضرورت تھی، اور اگر ہمیں دوبارہ ضرورت ہوئی تو وہ ساتھ نہیں ہوں گے۔"
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے پہلے کہا کہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ نیٹواس آزمائش میں ناکام رہا ہے" انہوں نے کہا، “یہ کافی افسوس ناک ہے کہ پچھلے چھ ہفتوں کے دوران نیٹو نے امریکی عوام سے منہ پھیر لیا، حالانکہ اسی اپنی دفاعی فنڈ امریکی عوام ہی فراہم کرتے ہیں۔"