مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
شام: سعودی عرب کے ساتھ متعدد معاہدے
شام نے دارالحکومت دمشق میں سعودی کمپنیوں کے ساتھ چار معاہدے کئے ہیں
شام: سعودی عرب کے ساتھ متعدد معاہدے
شام کے حمص میں واقع جندر تھرمل پاور پلانٹ کا ایک منظر [فائل] / AA

شام اور سعودی عرب نے تیل اور گیس کے شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دستخط کر دیئے ہیں۔

شامی عرب خبر ایجنسی 'سانا' کی منگل کو جاری کردہ خبر کے مطابق شام کی سرکاری پیٹرول کمپنی نے دارالحکومت دمشق میں وزارتِ توانائی کے صدر دفتر میں سعودی کمپنیوں کے ساتھ چار معاہدے کئے ہیں۔

ایجنسی نے معاہدوں پر دستخط کرنے والی سعودی کمپنیوں کے نام پوشیدہ رکھتے ہوئے  کہا  ہےکہ یہ معاہدے "تکنیکی معاونت کی خدمات اور شامی تیل اور گیس  فیلڈ کی ترقی" کا احاطہ کرتے  ہیں ۔

19 نومبر کو شامی پیٹرولیم کمپنی کے منتظمِ اعلیٰ  یوسف قبلاوی نے مغربی الساحل علاقے  میں پانچ نئے گیس فیلڈوں کی دریافت  کا اعلان کیا تھا۔

2015 کے اعداد و شمار کے مطابق، شام میں تصدیق شدہ گیس ذخائر تقریباً 8.5 ٹریلین مکعب فٹ تھے، جبکہ غیر مرتبط گیس کی اوسط یومیہ  پیداوار تقریباً 250 ملین مکعب میٹر ہے، جو  کُل ملکی گیس پیداوار کا 58 فیصد بنتی ہے۔

تیل کے ساتھ منسلک گیس، پیداوار کا 28 فیصد ہے اوراس کا  زیادہ تر حصّہ دریائے فرات  کے مشرق سے آتا ہے۔

احمد الشراع کی صدارت میں نئی شامی حکومت،  14 سالہ خانہ جنگی کے بعد ملک کی تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کی خاطر، چند حکومتوں اور اداروں کے ساتھ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کر کے ملک کے شعبہ توانائی  کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے  ۔

دریافت کیجیے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں