دہشت گرد تنظیم وائے پی جی کے سرغنہ کا دریائے فرات کے مغرب سے انخلاء کا اعلان

شامی فوج نے 13 جنوری کو فرات کے مغرب میں واقع علاقوں دیر حافر اور مسکنہ کو دہشت گرد قبضے میں قرار دیتے ہوئے انہیں  فوجی زون قرار دیا تھا۔

By
انخلا کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شامی افواج راہداریاں کھول رہی ہیں اور اعلان کردہ دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ / AA

وائے پی جی ہشت گرد گروہ کے سرغنہ کا دعویٰ ہے کہ گروہ  دریائے فرات کے مغربی کنارے  سے پسپائی کرے گا، جبکہ شامی فوج نے اس خطے میں عسکری کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

گروہ کے سرغنہ فرحات عبدی ساہن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ پسپائی 10 مارچ کے معاہدے کی شرائط پر عمل کرنے میں 'نیک نیتی'  کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ مسلح عناصر ہفتے کو مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے فرات کے مشرقی علاقوں کی طرف پیچھے ہٹنا شروع کر دیں گے۔

شامی فوج نے 13 جنوری کو فرات کے مغرب میں واقع علاقوں دیر حافر اور مسکنہ کو دہشت گرد قبضے میں قرار دیتے ہوئے انہیں  فوجی زون قرار دے دیا ۔

دیر حافر سے شہریوں کی عارضی اور محفوظ  نقل مکانی کو  یقینی بنانے کے لیے فوج نے جمعرات اور جمعہ کو M15 ہائی وے پر ایک انسانی راہداری کھولی۔

جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں فوج نے دیر حافر میں نشانہ بنائے جانے والے مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کے نقشے شائع کیے اور شہریوں سے کہا کہ وہ ان علاقوں سے دور رہیں۔

فوج نے کہا ہے کہ اس نے اعلان کردہ اہداف کے خلاف آپریشن بروز جمعہ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے شروع کر دیا ہے۔

شام  کی طرف سے  پسپائی کا خیرمقدم

شامی وزارت دفاع نے YPG دہشت گرد گروہ کے مغربی  فرات کی رابطہ لائنوں سے انخلاء کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

وزارت نے کہا ہے کہ وہ تمام  کارکنان اور فوجی سازو سامان کے دریا کے مشرق تک مکمل انخلاء کی قریبی نگرانی کرے گی۔

وزارت نے مزید کہا کہ یہ اقدام شامی فوج  کے دستوں  کی علاقے میں بیک وقت تعیناتی کے ساتھ انجام دیا جائے گا تاکہ سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے اور ریاستی حاکمیت بحال کی جا سکے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل سے رہائشیوں کی اپنے گھروں اور دیہات میں محفوظ اور تیزی سے واپسی ممکن ہو گی اور ساتھ ہی ریاستی اداروں کی دوبارہ فعال کاری کا راستہ ہموار ہو  گا۔