ونیزویلا کی فضائی حدود مکمل طور پر بندکر دی ہے:ٹرمپ
ٹرمپ نے ہفتہ کو اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ تمام فضائی کمپنیاں، پائلٹس، منشیات فروشوں، اور انسانی اسمگلروں کے لیے براہ کرم وینزویلا کے اوپر اور اس کے گرد و نواح کی فضائی حدود کو مکمل طور پر بند سمجھیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ وینزویلا کے اوپر اور اس کے ارد گرد تمام فضائی حدود کو "بند" سمجھا جانا چاہیے۔
ٹرمپ نے ہفتہ کو اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ تمام فضائی کمپنیاں، پائلٹس، منشیات فروشوں، اور انسانی اسمگلروں کے لیے براہ کرم وینزویلا کے اوپر اور اس کے گرد و نواح کی فضائی حدود کو مکمل طور پر بند سمجھیں یہ پیغام کیریبین میں امریکی فوجی تعیناتی کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں واشنگٹن نے دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جہاز اور کئی دیگر جنگی جہاز تعینات کیے ہیںجو کہ منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف توسیع شدہ آپریشن کا حصہ ہے۔
تاہم، کاراکاس کا کہنا ہے کہ اصل مقصد اس کی حکومت کا تختہ الٹنا ہے۔
ستمبر کے اوائل سے، امریکی فوج نے 20 سے زائد جہازوں پر حملے کیے ہیں جن کے بارے میں واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ وہ کیریبین سمندر اور مشرقی بحرالکاہل میں وینزویلا کی منشیات کی اسمگلنگ سے منسلک ہیں۔
ان حملوں میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
امریکہ نے عوامی طور پر اس بات کے شواہد جاری نہیں کیے ہیں کہ نشانہ بنائی گئی کشتیاں منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث یا امریکہ کے لیے کوئی خطرہ تھیں۔
اس مہم نے خطے میں کشیدگی کو شدید بڑھا دیا ہے، جس پر حکومتوں کی جانب سے تنقید کی گئی ہے جو اس بات پر فکر مند ہیں کہ امریکی فوجی موجودگی پہلے سے ہی نازک صورتحال کو غیر مستحکم کر سکتی ہے۔
نیو یارک ٹائمز نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ اور مادورو نے گزشتہ ہفتے فون پر بات کی تھی، جس میں امریکہ میں ملاقات کے امکان پر بات چیت ہوئی۔
یہ رپورٹ اس دن سامنے آئی جب ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ امریکہ کی کوششیں وینزویلا میں مبینہ منشیات کی اسمگلنگ کو "زمینی کاروائی کے ذریعے روکنے کے لیے ضروری ہیں جس سے کاراکاس اور ہمسایہ ممالک میں مزید تشویش پیدا ہوئی۔