ترکیہ میں ہلاک ہونے والے لیبیائی وفد کے لیے رسمِ جنازہ کا اہتمام

مرنے والوں میں چیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمد علی الحدّاد بھی شامل تھے اور جو ہوائی حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے

By
Ankara hosted a ceremony for the Libyan delegation before repatriation. / AA

لیبیائی فوجی وفد کے ارکان کی لاشیں وطن واپس بھیجنے سے قبل ترکیہ میں ہفتے کے روز دارالحکومت انقرہ میں ایک رسم ِجنازہ منعقد کی گئی۔

مرنے والوں میں چیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمد علی الحدّاد بھی شامل تھے اور جو ہوائی حادثے میں جاں بحق ہوئے تھے۔

ایک نجی جیٹ طیارہ 23 دسمبر کو انقرہ میں گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے؛ ان میں وفد کے پانچ ارکان اور عملے کے تین افراد شامل تھے۔

رسمِ جنازہ مرتد ایئر بیس کمانڈ میں ہوئی، جہاں شرکاء نے ایک منٹ خاموشی اختیار کی، قرآنی تلاوت ہوئی اور مرحومین کے لیے دعائیں مانگی گئیں۔

ان کے نام پڑھنے کے بعد لیبیائی وفد کے ارکان کی لاشیں ایک طیارے میں منتقل کر کے لیبیا بھیج دی گئیں۔

تقریب میں ترک وزیرِ دفاع یاشار گولیر، چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائراکتاراولو، بری فوج کے کمانڈر جنرل میتِن تیوکل، نیول فورسز کے کمانڈر ایڈمرل ارچومنِت تاتلی اولو، انقرہ میں لیبیا کے سفیر مصطفی الجلیب، لیبیائی فوجی وفد کے ارکان اور مقتولین کے لواحقین بھی شریک تھے۔

ہلاک شدگان میں لیبیا کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل محمد علی الحدّاد، لیبیائی لینڈ فورسز کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فتوری گریبل، لیبیائی فوجی فیکٹریز کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل محمود جمعہ ال گیتوی، لیبیائی چیف آف جنرل اسٹاف کے مشیر محمد اساوی، اور فوٹو گرافر محمد عمر احمد محجوب شامل تھے۔

لاشوں کی وطن واپسی کے بعد بائراکتاراولو بعد ازاں ایک فوجی تقریب میں شرکت کے لیے لیبیا روانہ ہو گئے۔