ٹرمپ: امریکی فوجیں علاقے میں موجود رہیں گی
امریکہ، ایک "حقیقی معاہدے" کے مکمل نفاذ تک، ایران کے اندر اور اس کے اطراف میں اپنی بھرپور فوجی موجودگی برقرار رکھے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب جاری کردہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ امریکہ،ایک "حقیقی معاہدے" کے مکمل نفاذ تک، ایران کے اندر اور اس کے اطراف میں اپنی بھرپور فوجی موجودگی برقرار رکھے گا اور اگر وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی تو زبردست ردعمل دیا جائے گا۔
ٹروتھ سوشل سے جاری کردہ بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ تمام امریکی بحری جہاز، طیارے اور فوجی اہلکار اضافی گولہ بارود اور اسلحے کے ساتھ "ایران کے اندر اور اس کے ارد گرد اس وقت تک اپنی جگہ پر موجود رہیں گے جب تک طے شدہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ نہیں ہو جاتا"۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ "خواہ اس کا امکان بہت کم ہی کیوں نہ ہو لیکن اگر کسی بھی وجہ سے ایسا نہ ہواتو 'جھڑپیں شروع ہو جائیں گی'۔ اور دوبارہ شروع ہونے والی جھڑپیں بے مثال شدت، طاقت اور وسیع پیمانے کی ہوں گی "۔
ٹرمپ نے "جوہری ہتھیار کی عدم موجودگی " سے متعلق "کافی پہلےسے" معاہدہ طے ہونے کا ذکر کیا اور اس کے برعکس تمام " بیانات" کو مسترد کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ "ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا اور آبنائے ہرمز کھلی اور محفوظ رہے گی۔ اس دوران ہماری عظیم فوج ہتھیاروں سے لیس ہو رہی ہے ۔ آرام بھی کر رہی ہے اور درحقیقت اپنی اگلی فتح کے لیے بے چین بھی ہے"۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ نے منگل کے روز دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔جنگ بندی معاہدے کا مقصد، 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی اور پورے خطے میں ہزاروں افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا سبب بننے والی جنگ کے خاتمے کے لیے، ایک حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور معاہدہ قبول کرنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہونے میں دو گھنٹے سے بھی کم وقت باقی تھا۔ ٹرمپ نے ایران کی "پوری تہذیب کو تباہ کرنے" کی دھمکی بھی دی تھی۔