مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
اسرائیل کے خلاف ہمارے میزائل حملے کے لیے تیار ہیں:ایران
ایران کے مرحوم رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ ترین فوجی مشیر محسن رضائی نے جمعرات کے روز بیان دیا ہے کہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے خلاف اسرائیلی دھمکیوں کے جواب میں میزائل داغنے کے لیے تیار کر لیے گئے ہیں
اسرائیل کے خلاف ہمارے میزائل حملے کے لیے تیار ہیں:ایران
ایران

ایران کے مرحوم رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے اعلیٰ ترین فوجی مشیر محسن رضائی نے جمعرات کے روز بیان دیا ہے کہ بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے خلاف اسرائیلی دھمکیوں کے جواب میں میزائل داغنے کے لیے تیار کر لیے گئے ہیں۔

 یہ بیان علاقائی کشیدگی کے دوران حزب اللہ کے لیے تہران کی مسلسل حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے محسن رضائی نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں فائدہ حاصل کرنے کے لیے لبنان میں دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مستقبل کے کسی بھی علاقائی تصفیے میں لبنان کا کردار مرکزی رہے گا اور انہوں نے اپنے اتحادیوں کی حمایت کے لیے تہران کے عزم کا اعادہ کیا۔

رضائی نے کہا کہ حزب اللہ کے لیے ایران کی حمایت اس کی اسٹریٹجک ساکھ کا معاملہ ہے، اور انہوں نے دلیل دی کہ جو ممالک اپنے شراکت داروں کو چھوڑ دیتے ہیں وہ اپنا اثر و رسوخ اور پوزیشن کمزور کرنے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔

انہوں نے یہ وارننگ بھی دی کہ کوئی بھی نئی محاذ آرائی شمالی اسرائیل کو ان حالات سے دوچار کر دے گی جو حالیہ 40 روزہ تنازع کے دوران تجربہ کیے گئے حالات سے "کہیں زیادہ مشکل" ہوں گے۔

رضائی نے آبنائے ہرمز  کو ایران کے کنٹرول میں ایک طاقتور رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کو تجارت کے لیے کھلا رہنا چاہیے لیکن اسے فوجی دباؤ کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

مشیر نے کم از کم 24 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا، اور دلیل دی کہ اس طرح کا اقدام جاری سفارتی کوششوں میں اعتماد سازی کے لیے مددگار ثابت ہوگا۔

یہ تبصرے ایک انتہائی غیر مستحکم علاقائی پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ اس سال کے شروع میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد تناؤ میں اضافہ ہوا تھا، جس کے جواب میں تہران نے جوابی حملے کیے اور آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ اگرچہ اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی نافذ العمل ہوئی تھی، لیکن کسی وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات اب بھی نازک ہیں۔

لبنان میں، اپریل کے وسط میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود لڑائی جاری ہے۔

 بیروت کے آس پاس حملوں اور اپنی جارحیت کو بڑھانے کی اسرائیلی دھمکیوں نے ان خدشات کو جنم دیا ہے کہ یہ تنازع دوبارہ پھیل سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف امریکی قیادت میں سفارتی کوششیں اس جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

 

دریافت کیجیے
غزہ کی تباہی دل کو بھاتی ہے:اسرائیلی وزیر
اسرائیلی افواج نے جنگ بندی کے باوجود لبنان میں گھروں کو آگ لگا دی
ایران نے بندر عباس میں امریکی ڈرون مار گرایا
اسرائیل کا  غزہ پر حملہ، 9 سالہ بچی سمیت 8 فلسطینی ہلاک
امریکی افواج کا جنوبی ایران میں اہداف پر فضائی حملہ
ایران نے ہرمز بند کر دیا، ہمسایہ ممالک پر حملے
ایران کے سپریم لیڈر نے علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کی عہد کیا
خامنہ ای کی ان کے آبائی شہر مشہد میں تدفین کے وقت انتقام لینے کا قسم کھائی گئی
ایران کے بوشہر کے ایٹمی بجلی گھر کے اردگرد کا علاقہ امریکی حملے کا نشانہ بنا ہے: ریاستی میڈیا
شام دہشتگردی کا حامی ملک نہیں رہا:امریکہ
ایران کا امریکہ کو انتباہ: صرف تہران ہی آبنائے ہرمز کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کا مجاز ہے
ایران: مغالطہ آمیز کوشش کا فوری جواب دیا جائیگا
ایران کی طرف سے اسلام آباد فائر بندی مفاہمتِ یادداشت کی خلاف ورزی پر امریکہ کی مذمت
امریکہ  نے ایران پر تازہ حملوں کی لہر شروع کر دی
ایران نے آبنائے ہر،مز میں تجارتی بحری جہازوں پر میزائل داغے: رپورٹ
تہران میں خامنہ ای کی رسمِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ایران میں شروع، یجوم انتقام لینے کے نعرے بلند کر رہا ہے
آیت اللہ علی خامنہ ای کا  تابوت  تہران پہنچ گیا
اسرائیل نے امریکہ۔ایران معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے عراقچی اور قالیباف کو ہدف بنانا چاہا تھا
امریکا اور ایران کے مابین غیر براہ راست مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے:قطر