ٹرمپ: ایران کے مذاکرات کار خوف زدہ ہیں
ایران امن مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے لیکن عوامی سطح پر اس کے اعتراف سے انکاری ہے: ٹرمپ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ ایران امن مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے لیکن عوامی سطح پر اس کے اعتراف سے انکاری ہے کیونکہ ایرانی مذاکرات کاروں کو اپنے ہی لوگوں کی طرف سے مارے جانے کا خوف ہے۔
ٹرمپ نے کل بروز بدھ کانگریس کے ریپبلکن اراکین کے لیے ایک عشائیے سے خطاب میں کہا ہے کہ "وہ بات کر رہے ہیں اور شدّت سے ایک معاہدے کے خواہش مند ہیں لیکن اس کے اعتراف سے ڈرتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ کہیں ان کے اپنے ہی لوگ انہیں مار ہی ناں ڈالیں ۔
ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ "وہ اس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ ہم انہیں مار ڈالیں گے ۔ایران مذاکرات کے لیے بے چین ہے"
انہوں نے یہ بھی کہا کہ" دنیا میں ایران کی قیادت کو اس وقت کے لیڈر سے زیادہ کم چاہنے والا کوئی اور لیڈر نہیں ہو گا ۔۔۔میں یہ نہیں چاہتا… وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو اگلا سپریم لیڈر بنانا چاہیں گے۔' نہیں، شکریہ۔ میں یہ نہیں چاہتا"۔
ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ امریکہ ایران کو 'تباہ' کر رہا ہے۔
"میں لفظ "جنگ" استعمال نہیں کروں گا… میں لفظ "فوجی آپریشن" استعمال کروں گا اور حقیقت میں بھی اسے فوجی تباہی کہا جاتا ہے"۔