نو آموز رہبر اعلی ہوشیار رہے: نیتن یاہو

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنگ کے آغاز کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ایران کے نئے  رہبر اعلی کے خلاف ایک ضمنی دھمکی دی اور اسرائیل-امریکہ کی مشترکہ جنگ کا دفاع کیا

By
نیتین یاہو / AA

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنگ کے آغاز کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں ایران کے نئے  رہبر اعلی کے خلاف ایک ضمنی دھمکی دی اور اسرائیل-امریکہ کی مشترکہ جنگ کا دفاع کیا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ تقریباً دو ہفتوں کی امریکی-اسرائیلی فضائی بمباری کے بعد ایران پہلے جیسا نہیں رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ تہران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) اور بسیج نیم فوجی فورس کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے سوالات کے جواب دیتے ہوئے نیتن یاہو نے  حزب اللہ کو نشانہ بنانا جاری رکھنے کا عہد بھی کیا۔

ایران نواز گروپ نے 2 مارچ کو جنگ کے آغاز پر ایران کے  رہبر اعلی  کے قتل کے جواب میں فائرنگ شروع کی تھی۔

یہ  پوچھنے پر کہ اسرائیل ایران کے نئے  رہنما مجتبیٰ خامنہ ای اور حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم کے خلاف کیا اقدامات کر سکتا ہے تو  نیتن یاہو نے تفصیلات بتانے سے انکار کیا ۔۔

نیتن یاہو نے کہا  کہ میں دہشت گرد تنظیم کے کسی بھی رہنما کے لیے زندگی بیمہ  پالیسی جاری نہیں کروں گا  ،میں یہاں یہ واضح پیغام دینے کا ارادہ نہیں رکھتا کہ ہم کیا منصوبہ بنا رہے ہیں یا ہم کیا کرنے والے ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ایران اور حزب اللہ اب سے  اس جنگ سے پہلے  جیسا خطرہ اب  نہیں ہے۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ تنازع کے دوران وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مسلسل رابطے میں  ہیں۔