صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو ونیزویلا سے بے دخل کر دیا گیا ہے، صدرِ امریکہ
متحدہ امریکہ نے کامیابی کے ساتھ وینیزویلا اور اس کے رہنما، صدر نکولا مادورو، کے خلاف ایک وسیع پیمانےکی کاروائی کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتہ کو کہا کہ واشنگٹن نے وینیزویلا کے خلاف "وسیع پیمانے پر حملہ" کیا اور صدر نیکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے نکال دیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا ہے کہ "متحدہ امریکہ نے کامیابی کے ساتھ وینیزویلا اور اس کے رہنما، صدر نکولا مادورو، کے خلاف ایک وسیع پیمانےکی کاروائی کی ہے اور انہیں ان کی اہلیہ کے ہمراہ گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔"
ٹرمپ نے کہا کہ یہ عسکری کارروائی "امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر" سر انجام دی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی اور ایک نیوز کانفرنس امریکی ریاست فلوریڈا کے ان کے مارا-لاگو رہائش گاہ پر صبح 11 بجے منعقد کی جائے گی۔
دوسری جانب، نیو یارک ٹائمزکے ساتھ ایک مختصر فون انٹرویو میں ٹرمپ نے اس حملے کی کامیابی کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ "بہت اچھی منصوبہ بندی کی گئی ، پائے کے فوجیوں اور بہترین عملے کی مشترکہ کاوش تھی۔
انہوں نے مزید کہا" یہ در حقیقت ایک اعلی آپریشن تھا۔"
ان سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے اس کارروائی کے لیے کانگریس سے اجازت طلب کی تھی ، اور وینیزویلا کے لیے آگے کیا ہوگا تو ٹرمپ نے کہا کہ وہ یہ معاملات نیوز کانفرنس میں خطاب کے دوران بیان کریں گے۔
مادورو امریکی حراست میں
امریکی نائب سیکریٹری آف اسٹیٹ کرسٹوفر لینڈاؤ نے کہا کہ مادورو "آخر کار اپنے جرائم کا حساب چکائے گا۔"
انہوں نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا"وینیزویلا کے لیے ایک نئی صبح! ظالم چلا گیا ہے۔ وہ اب بالا آخراپنے جرائم کے سبب عدالت کے کٹہرے میں آئے گا۔"
یہ حملے کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد کیے گئے جب امریکہ نے مادورو پر منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔
سی بی ایس نیوز نے حکام کے حوالے سے بتایا کہ امریکی فوج کی ڈیلٹا فورس کے ایک ممتاز خصوصی فوجی یونٹ نے مادورو کو گرفتار کرنے کے لیے یہ آپریشن انجام دیا۔
امریکی سینیٹر مائیک لی نے کہا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں آگاہ کیا کہ مادورو کو گرفتار کیا گیا ہے تاکہ انہیں امریکہ میں فوجداری الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا کروایا جا سکے۔
لی نے کہا کہ روبیو "توقع کرتے ہیں کہ مادورو کی امریکی حراست میں ہونے کے بعد وینیزویلا میں مزید کارروائی کی ضرورت نہیں رہے گی"۔
دریں اثنا، وینیزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا کہ وہ مادورو کے ٹھکانے سے 'لاخبر' ہیں اور انہوں نے ٹرمپ سے صدر مادورو کی زندہ ہونے کا "ثبوت" مانگا۔