شمالی کوریا نے کلسٹر بم اور بیلسٹک میزائلوں کا آزمائشی تجربہ کر ڈالا
کم جونگ اُن کی نگرانی میں گزشتہ روز ہونے والے یہ تجربات حالیہ ہفتوں میں دیگر ہتھیاروں کے تجربات کے بعد ہوئے ہیں جن میں اینٹی وارشپ کروز میزائل اور کلسٹر گولہ بارود شامل ہیں۔
شمالی کوریا نے متعدد کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔
کم جونگ اُن کی نگرانی میں گزشتہ روز ہونے والے یہ تجربات حالیہ ہفتوں میں دیگر ہتھیاروں کے تجربات کے بعد ہوئے ہیں جن میں اینٹی وارشپ کروز میزائل اور کلسٹر گولہ بارود شامل ہیں۔
پانچ ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل، جو تقریباً 136 کلومیٹر دور ایک جزیرے کے اردگرد ہدفی علاقے کی طرف داغے گئے جنہوں نے 12.5-13 ہیکٹر کے علاقے کو انتہائی شدت کے ساتھ نشانہ بنایا ہے ۔
اس تجربے کا مقصد بہتر زمین سے زمین پر مار کرنے والے ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ہواسونگفو-11 RA- کے وارہیڈ کی طاقت کا جائزہ لینا تھا۔
شمالی کوریائی لیڈر نے بتایا کہ کلسٹر بم وارہیڈز کا تعارف کسی مخصوص علاقے کو نشانہ بنانے کے لیے زیادہ کثافت والی ضربی صلاحیت کو بڑھا سکتا ہے۔
اپریل کے اوائل میں کم جونگ اُن نے اسٹریٹیجک کروز میزائلوں کے تجربات کی نگرانی کی تھی جو چوئے ہیون سے کیے گئے تھے ۔
شمالی کوریا اپنے بحری بیڑے میں اضافے کے لیے مزید دو 5,000 ٹن کلاس کے ڈسٹرائرز تیار کر رہا ہے۔
ایک جنوبی کوریائی قانون ساز نے کہا کہ شمالی کوریا نامپو بندرگاہ پر ایک ڈسٹرائر کی تعمیر کو تیز کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جبکہ وہ روس کی جانب سے فوجی معاونت کے باعث بحری افواج کی جدید کاری کو تیز کر رہا ہے۔
سیول نے آج اس تجربے کی اطلاع دی جس میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بحیرہ مشرق میں داغے گئے کئی میزائلوں کا پتہ لگایا۔
جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ سیول ایک "مضبوط مشترکہ دفاعی حکمت عملی" برقرار رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دے گا۔