ایران: امریکہ اور اسرائیل کے حامی شہریوں کی جائدادیں ضبط کر لی جائیں گی
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والے ایرانی شہریوں کے بیرونِ ملک موجود اثاثے ضبط کرلے گا: اٹارنی جنرل دفتر
ایران اٹارنی جنرل دفتر نے کہا ہےکہ ایران ،واشنگٹن اور تل ابیب کی تہران کے خلاف جاری جنگ کے دوران ، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والے ایرانی شہریوں کے بیرونِ ملک موجود اثاثے ضبط کرلے گا ۔
پریس ٹی وی کے مطابق اتوار کو جاری کردہ بیان میں دفتر نے گذشتہ اکتوبر میں نافذ کیے گئے ایک قانون کا حوالہ دیا اور کہا ہے کہ اس قانون کی رُو سے اسرائیل، امریکہ یا دیگر دشمن ریاستوں یا گروپوں کے ساتھ کوئی بھی تعاون کرنے والے کی تمام جائیداد ضبط کر لی جائے گی اور ایسا شخص اسلامی فوجداری قانون کے مطابق دیگر قانونی سزاؤں کے تابع ہوگا۔
پریس ٹی وی نے قانون میں درج شق کو نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ " صیہونی حکومت یا امریکی حکومت سمیت دیگر دشمن حکومتوں اور گروپوں یا ان سے منسلک کسی بھی عنصر کی طرف سے ملکی سلامتی کے خلاف کی گئی کسی بھی آپریشنل کارروائی کی صورت میں 21 اپریل 2013 میں پاس ہونے والے اور بعد ازاں ترامیم و اضافوں کے تابع رکھے گئے اسلامی فوجداری قانون کے آرٹیکل نمبر 19 اور 5 نمبر نوٹ کے آخری حصّے کی رُو سے پھانسی کے مستحق قرار پائیں گے۔
ایرانی حکام کے مطابق، 28 فروری سے ایران پر جاری امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملوں میں ایران کے دینی لیڈر علی خامنہ ای سمیت 1,200 سے زائد افراد ہلاک اور 10,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
تہران نے اسرائیل اورامریکی فوجی اثاثوں والے خلیجی ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں سے نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کی ہے۔
ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے اتوار کو خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا۔