غزہ پر اسرائیلی فضائی حملہ، ایک بچے اور حاملہ عورت سمیت 4 فلسطینی ہلاک

حملہ وسطی غزہ کے پناہ گزین کیمپ نصیرات میں ایک مکان کو نشانہ بنا کر کیا گیا، مکان میں مقیم  ایک جوڑا اور اُن کا چھوٹا بیٹا ہلاک ہو گیا ہے: الاقصی شہداء ہسپتال

By
جنوبی غزہ میں 14 مارچ 2026 کو ریت کے طوفان کے دوران، دو سالہ اسرائیلی جارحیت کے باعث بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی ایک خیمہ بستی۔ / Reuters

غزّہ کے الاقصی شہداء ہسپتال کے حکام کے مطابق آج بروز اتوار غزّہ پر ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ایک بچے اور ایک حاملہ عورت سمیت  کم از کم چار فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔

ہسپتال کے مطابق یہ حملہ وسطی غزہ کے پناہ گزین کیمپ نصیرات میں ایک گھر کو نشانہ بنا کر کیا گیا ہے۔ مکان میں مقیم  ایک جوڑا اور اُن کا چھوٹا بیٹا ہلاک ہو گیا ہے۔

قتل کئے گئے چوتھے فلسطینی کی لاش بھی نصیرات کے عودہ ہسپتال پہنچا دی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی تبصرہ موصول نہیں ہوا۔

یہ ہلاکتیں ان تازہ ترین اموات میں شامل ہیں جواسرائیل کی  غزّہ پر مسّلط کردہ اور 72000 فلسطینیوں کی اموات کا سبب بننے والی نسل کُشی جنگ کے خاتمے کے لئے   اکتوبر میں طے پانے والے  جنگ بندی معاہدے کے بعد سے ہوئی ہیں۔

اگرچہ شدید لڑائی میں کمی آئی ہے، مگر جنگ بندی کے دوران اب بھی تقریباً روزانہ اسرائیلی خلاف ورزیاں ریکارڈ ہو رہی ہیں۔ غزہ کے صحت حکام کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی  اسرائیلی فوج نے  بار بار فضائی حملے کئے اور اکثر عسکری کنٹرول والے علاقوں کے نزدیک فلسطینیوں پر فائرنگ کی ہے۔ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں اب تک  650 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔